صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 171 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 171

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۶ - كتاب الطب عمل نہ کر سکے تو حضرت عائشہؓ سے آپ نے ان دعاؤں کے ذریعے اپنی حفاظت کی خدا تعالیٰ سے مدد حاصل کی۔اللہ تعالیٰ کا فضل آپ کی دعاؤں کی قبولیت کے نشان کے طور پر اس وعدہ الہی کی صورت میں ظاہر ہوا وَاللهُ يَعْصِمُكَ من النَّاسِ (المائدة: ٦٨) اور لَهُ مُعَقِبتَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ (الرعد: ۱۲) - آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت کی چھتری کے نیچے رہے اور دشمنوں کے تمام مکر اور شر ہمیشہ ان پر اُلٹائے گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا ایک ایسا حصار نصیب تھا کہ دشمنوں کی کوئی کوشش آپ کے مقابل کامیاب نہ ہو سکی۔امام بخاری نے ان آیات کی روشنی میں زیر باب دی گئی روایات کو پڑھنے کی راہنمائی فرمائی ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علم کے زمانے میں بھی یہ گروہ پایا جاتا تھا اور مشرکین کے کاہن طواغیت العرب کے نام سے مشہور تھے۔یہود میں بھی یہ طبقہ ساحرین کا پایا جاتا تھا۔قرآن مجید نے بھی ان کا ذکر آیت اَلَم تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ امَنُوا سَبِيلًا) (النساء : ۵۲) میں کیا ہے۔جنت کے معنی ہیں الشِعْرُ وَ السَّاحِرُ الَّذِي لَا خَيْرَ فِيهِ (اقرب الموارد - جبت) جادو اور جادو گر جس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔طاغوت فن جادوگری کا دوسرا نام تھا۔اور یہودیوں میں بھی سحر کاری بہت رائج تھی جیسے مشرکین کے مذہبی سرداروں میں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین اور یہود دونوں کا جادو توڑنے میں کامیاب ہوئے۔عجیب اتفاق ہے کہ یہ جادوگر ہر ملک میں اپنی سحر کاری کے لئے ویرانوں و گنجان جنگلوں میں اپنا ٹھکانہ بناتے اور اس سے انسانوں کی قوت متخیلہ و واہمہ کو مرعوب و متاثر کرتے تھے۔“ (صحیح بخاری، ترجمه و شرح، کتاب بدء الخلق، باب صفةُ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ، جلد ۶ ، صفحه ۱۱۳) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں: اس روایت کے گرد ایسے قصوں کا جال بن دیا گیا ہے کہ اصل حقیقت کا پتہ لگانا ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : "اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اس کے لئے اُس کے آگے اور پیچھے چلنے والے محافظ (مقرر ) ہیں “ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " کیا تو نے اُن کی طرف نظر نہیں دوڑائی جن کو کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا وہ بتوں اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور اُن لوگوں کے متعلق جنہوں نے انکار کیا کہتے ہیں کہ یہ لوگ مسلک کے لحاظ سے ایمان لانے والوں سے زیادہ درست ہیں۔“