صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 170 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 170

صحیح البخاری جلد ۱۴ 12۔۷۶ - كتاب الطب آیت نمبر ۲: وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ آئی (طه: ۷۰) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ فریب کار جس طرف سے بھی آئے (خدا کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔آیت نمبر ۳: افتانونَ السَّحْرَ وَ انْتُمْ تُبْصِرُونَ (الانبياء : ۴) اس آیت میں مخالفین انبیاء کی اس بات کو بیان کیا ہے کہ چونکہ وہ نبیوں کے مقابل پر اپنے تمام منصوبوں میں ناکام اور نامراد ہو جاتے ہیں اس لیے وہ اپنی دانست میں انبیاء کی باتوں کو جادو کے کرتب کہہ کر اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے نزدیک جادو کی طاقت کا چونکہ ان کے پاس کوئی توڑ نہیں ہوتا اس لیے انبیاء کے ساتھ تائید الہی کو وہ جادو کا کرشمہ قرار دے کر اپنے آپ کو اور دوسرے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔امام بخاری نے اس آیت سے یہ اشارہ کیا ہے کہ انبیاء کے ساتھ جادو کی کوئی بھی نسبت ان کے شایانِ شان نہیں بلکہ یہ دشمنانِ انبیاء کا شیوہ ہے۔آیت نمبر ۳: يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَفى (طه: ۶۷) اس آیت میں جادو گروں کے اس کرتب کی طرف اشارہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں انہوں نے دکھایا۔لوگ ان کی فریب کاری کا کسی قدر شکار ہوئے جیسا کہ بعض شارحین اور مفسرین نے لکھا ہے وہ رسیاں جنہیں انہوں نے پارہ لگایا ہوا تھا۔دھوپ لگنے کے نتیجے میں پارہ پھیلنے لگا۔جس سے وہ رسیاں حرکت کرتی نظر آئیں۔(فتح الباری جزء ۱ صفحه ۲۷۷) وَالْقِ مَا في يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ جِرٍ ، وَلا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ آئٹی (طه: ۷۰) اور جو کچھ تیرے دائیں ہاتھ میں ہے اس کو زمین پر ڈال دے۔جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس سب کو وہ نگل جائے گا (یعنی اس کا بھانڈہ پھوڑ دے گا) انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ تو فریب کاروں کا ایک فریب ہے اور فریب کار جس طرف سے بھی آئے (خدا کے مقابلہ میں ) کامیاب نہیں ہو سکتا۔تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خیال ہوا کہ ان کے جادو کی وجہ سے رسیوں میں حرکت پیدا ہوئی ہے اللہ تعالٰی کے حکم پر انہوں نے رسیوں پر سونٹا پھینکا تو ان کی سحر کاری کا بھانڈا پھوٹ گیا جادوگر یہ سمجھتے تھے کہ مسحور شخص ان کے قابو میں آجاتا ہے اور اپنی مرضی سے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔حضرت موسیٰ کے اس اقدام سے وہ سمجھ گئے کہ ان کا جادو نا کام ہو گیا۔• آیت نمبر ۵: وَمِنْ شَرِّ النَّفْتِ في العقد ( الفلق : ۵) اس سورۃ میں اور اس کے ساتھ سورۃ الناس میں جو دعائیں سکھائی گئی ہیں ان کے ذریعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کے شیطانی حملوں سے محفوظ رہنے کی دعا کیا کرتے تھے۔اور اس میں اس قدر آپ کی باقاعدگی تھی کہ آپ ہر رات سونے سے پہلے ان سورتوں کو پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے اور اپنے جسم پر پھیرتے۔اس عمل میں اس قدر دوام تھا کہ آخری بیماری میں جب آپ بوجہ ضعف خود یہ 66 له ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور جادو گر جس جہت سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوا کرتا۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” پس کیا تم جادو کی طرف بڑھے جاتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہو۔ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” ان کے جادو کی وجہ سے اسے خیال دلایا گیا کہ ان کی رسیاں اور ان کی سونٹیاں دوڑ رہی ہیں “