صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 169
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۶۹ ۷۶ - كتاب الطب نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ قُلْتُ يَا پھر وہاں سے آئے اور فرمانے لگے: عائشہ اس رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا اسْتَخْرَجْتَهُ قَالَ قَدْ کنویں کا پانی مہندی کے پانی جیسا تھا اور وہاں عَافَانِي اللهُ فَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى کھجوروں کے درختوں کی چوٹیاں ایسے تھیں جیسے النَّاسِ فِيهِ شَرًّا فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ۔ سانپوں کے بھن۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ آپ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ وَأَبُو ضَمْرَةَ وَابْنُ نے اس جادو کو نکال کیوں نہ لیا؟ فرمایا: اللہ نے تو مجھے اچھا کر دیا ہے اس لئے میں نے ناپسند کیا کہ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ وَقَالَ اللَّيْتُ میں اس وجہ سے لوگوں میں شر بر پا کروں۔ آپ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ فِي مُشْط نے اس کنویں کی بابت حکم دیا اور وہ پُر کر دیا گیا۔ وَمُشَاطَةٍ وَيُقَالُ الْمُشَاطَةُ مَا يَخْرُجُ (عیسی بن یونس کی طرح) ابو اسامہ اور ابو ضمرہ مِنَ الشَّعَرِ إِذَا مُشِطَ وَالْمُشَاطَةُ مِنْ (انس بن عیاض) اور ابن ابی زیاد نے بھی ہشام مُشَاطَةِ الْكَتَانِ۔ سے ہی اس کو روایت کیا اور لیٹ اور (سفیان) بن عیینہ نے بھی ہشام سے اس کو روایت کیا انہوں نے یوں کہا: في مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ المُشَاطَةُ أَن بالوں کو کہتے ہیں جو کنگھی کرنے سے نکلتے ہیں اور سوت کے تار کو بھی مُشَاطَةٌ کہتے ہیں۔ أطرافه: ۳۱۷۵، ٣٢٦٨ ، ٥٧٦٥، ٥٧٦٦، ٦٠٦٣، ٦٣٩١- تشریح : السحر : یعنی جادو۔ امام بخاری نے جادو سے متعلق ۴۷ سے ۵۲ تک ۶ ابواب اور ان کے ذیل میں سات روایات درج کی ہیں۔ باب نمبر ۷ ۴ میں روایات سے پہلے قرآن کریم کی پانچ آیات درج کر کے اپنے اصول فقہ البخاری فی تراجمه یعنی بخاری کے ابواب کے تفقہ سے اس کے ذیل میں دی گئی روایات کو سمجھا جا سکتا ہے اس کے مطابق زیر باب قرآن کریم کی آیات سے درج ذیل نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ آیت نمبرا: وَلَكِنَّ الشَّيْطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ ( البقرة: رة:۱۰۳) ۱۰۳) اس اس آیت آیت سے سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جادو شیطانوں کا کام ہے۔ اور شیطان انبیاء کے مقابل پر کامیاب نہیں ہو سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن (الحجر: ۴۳) جو میرے بندے ہیں ان پر تیر ا کبھی بھی تسلط نہیں ہو گا۔ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع ؟ بلکہ وہ شیاطین تھے جنہوں نے کفر کیا وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔“