صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 168 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 168

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۶۸ ۷۶ - كتاب الطب ٥٧٦٣ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۵۷۶۳ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ هِشَامِ عیسی بن یونس نے ہمیں بتایا۔ہشام بن عروہ) سے عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ کی۔آپ بیان کرتی ہیں: بنو زریق (یہودی) قبیلے کے ایک شخص نے جسے لبید بن اعصم کہتے تھے ، يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ حَتَّى كَانَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اور رسول اللہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہو تا کہ آپ نے کوئی کام يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ كَانَ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا کیا ہے بحالیکہ وہ نہ کیا ہو تا۔آخر ایک دن یا ایک فَعَلَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ رات کو جبکہ آپ میرے ہاں تھے دعا میں مشغول ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ عِنْدِي لَكِنَّهُ دَعَا رہے اس کے بعد فرمایا: عائشہ کیا تمہیں معلوم ہوا وَدَعَا ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ أَشَعَرْتِ أَنَّ ہے کہ اللہ نے مجھے وہ بات بتلادی ہے جو میں نے اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ أَتَانِي اس سے پوچھی تھی۔میرے پاس دو شخص آئے۔ان رَجُلَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِی میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَقَالَ أَحَدُهُمَا میری پائنتی کی طرف۔ان میں سے ایک نے اپنے لِصَاحِبِهِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ فَقَالَ مَطْبُوبٌ ساتھی سے کہا: اس شخص کو کیا تکلیف ہے ؟ اس نے قَالَ مَنْ طَبَهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ جواب دیا وہی جس کو جادو کیا گیا ہے۔اس نے قَالَ فِي أَيِّ شَيْءٍ قَالَ فِي مُشْطِ پوچھا: اس کو کس نے جادو کیا ہے ؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم (یہودی) نے۔اس نے پوچھا: کس چیز وَمُشَاطَةٍ وَجُتِ طَلْعِ نَحْلَةٍ ذَكَرٍ قَالَ میں ؟ اس نے کہا: کنگھی میں اور کنگھی سے اترے وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرٍ ذَرْوَانَ فَأَتَاهَا ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے خشک خوشہ میں۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اس نے پوچھا کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: نَاسِ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ ذروان کے کنویں میں۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَكَأَنَّ رُءُوسَ علیہ وسلم اپنے بعض صحابہ سمیت وہاں گئے اور