صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 167
صحیح البخاری جلد ۱۴ ط ط ۱۶۷ ۷۶ کتاب الطب ) زَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِینَ بِهِ مِنْ اَحَدٍ آزمائش کے طور پر ( مقرر ہوئے) ہیں۔اس لئے إلا بِإِذْنِ اللهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ (اے مخاطب ! ہمارے احکام کا انکار نہ کرنا، کسی وَلا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَن کو (کچھ) نہیں سکھاتے تھے جس پر وہ (لوگ) ان اشْتَراهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ (دونوں) سے وہ بات سیکھتے تھے جس کے ذریعہ (البقرة:١٠٣) وَقَوْلُهُ تَعَالَى وَلَا يُفْلِحُ سے وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کر السَّاحِرُ حَيْثُ آتی (طه:۷۰) وَقَوْلُهُ دیتے تھے اور وہ اللہ کے حکم کے سوا کسی کو بھی اس (بات) کے ذریعہ سے ضر ر نہیں پہنچاتے تھے افَتَأْتُوْنَ السَّحْرَ وَ أَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ اور (اس کے بالمقابل) یہ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ (الانبياء : ٤) وَقَوْلُهُ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ علیہ وسلم کے دشمن) تو وہ بات سیکھ رہے ہیں جو سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى (طه: ٦٧) وَقَوْلُهُ وَ انہیں ضرر دے گی اور نفع نہیں دے گی اور یہ مِنْ شَرِّ النَّفْتِ فِي الْعُقَدِ ( الفلق : ٥ ) لوگ یقیناً جان چکے ہیں کہ جو اس (طریق) کو وَالنَّفَّاثَاتُ السَّوَاحِرُ تُسْحَرُونَ تُعَمَّوْنَ اختیار کر لے آخرت میں اس کا کوئی بھی حصہ نہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور فریب کار جس طرف سے بھی آئے (خدا کے مقابلہ میں ) کامیاب نہیں ہو سکتا۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: پھر کیا تم اس کی فریبانہ باتوں میں آتے ہو ، حالانکہ تم خوب سمجھتے ہو۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: (موسیٰ کو ان کے فریب کی وجہ سے ) یوں نظر آئے گویا کہ وہ دوڑ رہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور تمام ایسے نفوس کی شرارت سے بچنے کے لیے بھی) جو باہمی تعلقات کی) گرہ میں (تعلق تڑوانے کی نیت سے) پھونکیں مارتے ہیں۔اور نفاقات کے معنی ہیں جادو گرنیاں اور تُسْحَرُونَ کے معنی ہیں تمہاری آنکھوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔