صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 165
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۶۵ ۷۶ - كتاب الطب فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا مِائَةَ ڈال دیتے ہیں اور یہ کاہن اس کے ساتھ سو كَذَّبَةٍ۔ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ جھوٹ ملاتے ہیں۔ علی بن مدینی) کہتے تھے: مُرْسَلُ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ ثُمَّ بَلَغَنِي عبد الرزاق الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ کو مرسلاً روایت کرتے تھے۔ پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ عبد الرزاق أَنَّهُ أَسْنَدَهُ بَعْدَ۔ أطرافه ۳۲۱۰، ۳۲۸۸، ٦٢١٣- نے اس کے بعد اس کو سند کے ساتھ بیان کیا۔ تشريح الكهانة: کہانت۔ کہانت سے مراد برگزیدہ لوگوں کی طرح علم غیب کا دعوی غیب کا دعویٰ کرنا اور قیافہ شناسی سے آئندہ ہونے والے واقعات کی پیشگوئی کرنا نیز اس کے معنی اندازہ لگانے اور ایسے امور کے ذریعے سے حقیقت تلاش کرنے کے ہیں جن کی کوئی اساس نہ ہو۔ زمانہ جاہلیت میں کچھ لوگوں نے اسے کاروبار کے طور پر اختیار کر لیا تھا۔ کہانت اور رمالی (فال نکالنا) زمانہ جاہلیت کی ان رسوم میں سے ہے جنہیں اسلام نے منسوخ کر دیا۔ علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ خطابی نے کہا ہے کا ہن وہ لوگ کہلاتے تھے جن کے ذہن بہت تیز ہوتے اور ان کے نفس شریر او طبیعتیں ناری ہوتیں۔ یہ اپنی افتاد طبع کی وجہ - وطبع کی وجہ سے شیاطین سے تعلق رکھتے زمانہ جاہلیت میں خصوصاً عربوں میں یہ طبقہ بہت پھیلا ہوا تھا۔ ( فتح الباری، جزء ۰ اصفحہ ۲۶۷) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابلیسی صفت تمام لوگ شیطان کے مظہر ہیں اور ان میں سے ایک بڑا گر وہ وہ ہے جو جادوگروں اور کاہنوں کے نام سے مشہور ہے۔ تاریخ ادیان قدیمہ سے متعلق علماء یورپ وغیرہ نے بڑی تحقیق کر کے ضخیم اور قابل قدر کتا بیں تصنیف کی ہیں۔ ان کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ اس گروہ کا نہ صرف قدیم مصر اور صحرائے افریقہ کے دور و نزدیک علاقوں کے قدیم باشندوں ہی کے مذہبی عقائد پر تسلط تھا۔ بلکہ ایشیا کے طول و عرض پر اس گروہ کا جادو بھوت کی طرح سروں پر سوار تھا۔ دور جانے کی ضرورت نہیں خود ہندوستان میں اب تک مشرک اقوام کے پنڈت پروہتوں کا منتر جنتر چلتا ہے اور ازمنہ قدیمہ سے دین سحری (جادوگری) مشرکانہ عقائد اور بد رسوم و عادات قبیحہ کا بہت بڑا گہوارہ رہا ہے۔“ (صحیح بخاری، ترجمه و شرح کتاب بدء الخلق، باب صفة إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ، جلد ۶، صفحہ ۱۱۳) جیمز ہنری بریسٹڈ اپنی کتاب ”تاریخ مصر“ میں لکھتا ہے: مصر کے نئے دور حکومت میں فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ ایک نئی موثر اور