صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 162
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۶۲ ۷۶ - كتاب الطب لا هَامَة : ایسا کوئی الو نہیں ہوتا جس میں مردے کی روح جنم لیتی ہے۔علامہ ابن حجر نے زبیر بن بکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ عرب جاہلیت میں ایسے شخص کو جو قتل ہو جائے اور اس کا أَضْرِبْكَ حَتَّى تَقُولَ الْهَامَةُ اسْقُونِي بدلہ نہ لیا جائے، کہتے تھے کہ اس کے سر سے عامہ یعنی کیڑا نکل گیا ہے۔جو اس کی قبر کے گرد چکر لگاتارہتا ہے اور کہتا ہے مجھے پلاؤ مجھے پلاؤ۔اور اگر اس کا بدلہ لے لیا جاتا تو وہ کیڑا چلا جاتا تھا ورنہ وہ رہتا تھا۔اس بارے میں اُنہوں نے عرب کے ایک شاعر کا شعر درج کیا ہے: يا عَمْرُو إِلَّا تَدَعُ شَتْنِي وَمَنْقَصَى یعنی اے عمر و اگر تو نے مجھے گالی گلوچ کرنانہ چھوڑا تو میں تجھے ماروں گا یہاں تک کہ کیڑا کہے گا کہ مجھے پلاؤ۔یعنی تیرا بدلہ بھی نہیں لیا جاسکے گا۔انہوں نے بیان کیا ہے کہ یہود کا گمان یہ تھا کہ یہ کیڑا قبر کے گرد سات دن تک چکر لگاتا ہے پھر چلا جاتا ہے۔اور ابن فارس اور دیگر علمائے لغت نے بھی یہی معانی لیے ہیں لیکن انہوں نے عامہ کے لفظ میں کپڑے کے معانی متعین نہیں کیسے بلکہ قزاز نے کہا ہے کہ حامہ رات کا ایک پرندہ ہے یعنی اتو۔ابنِ اعرابی کہتے ہیں اس سے بدشگونی لی جاتی تھی کہ جب وہ کسی کے گھر پر بیٹھ جاتا تو وہ کہتا یہ اس لیے بیٹھا ہے کہ یا تو میری موت کا یا میرے گھر والوں میں سے کسی کی موت کا پیغام لے کر آیا ہے۔اور ابو عبید کہتے ہیں عرب یہ گمان کرتے تھے کہ مردے کی ہڈیاں عامہ بن جاتی ہیں اور پھر اُڑتی ہیں اور ایسے پرندے کو وہ الصدی بھی کہتے تھے۔اس لحاظ سے حدیث میں جو معانی بنتے ہیں وہ یہ ہیں کہ مردے کے حامہ کی کوئی زندگی نہیں ہے۔یعنی ایسا کوئی کیڑا نہیں ہے جو مردہ میں رہتا ہو نیز اس بات کا اظہار ہے کہ اتو میں کوئی بد شگونی نہیں۔(فتح الباری، جزء ۱۰ صفحہ ۲۹۷) بَاب ٤٦ : الْكِهَانَةُ کہانت ٥٧٥٨ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا ۵۷۵۸: سعید بن عقیر نے ہمیں بتایا کہ لیث اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ( بن سعد) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عبد الرحمن بن خالد نے مجھ سے بیان کیا، عبد الرحمن عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابو سلمہ (بن عبد الرحمن بن عوف) سے، ابوسلمہ نے حضرت اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی علیم نے مِنْ هُذَيْلِ اقْتَتَلَتَا فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا ہذیل کی دو عورتوں کے متعلق فیصلہ کیا تھا جو آپس الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهِيَ میں لڑ پڑی تھیں۔اُن میں سے ایک نے دوسرے حَامِلٌ فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا کو پتھر مارا جو اس کے پیٹ میں لگا اور وہ حاملہ تھی