صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 161
صحیح البخاری جلد ۱۴ 141 ۷۶ - كتاب الطب -24 صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نام سے فال لیتے ہوئے فرمایا سہیل آیا ہے اب معاملہ آسان ہو گیا۔یعنی آپ نے سہیل سے سہل اور آسانی کے معنے مراد لیے۔بچوں کے نام رکھنے میں بھی اسی نیک فال کے طور پر اسماء الہی یا انبیاء کے ناموں پر نام رکھے جاتے ہیں۔جیسے عبد اللہ ، عبد الرب، ابراہیم، اسماعیل، موسیٰ، عیسی، محمد احمد۔اس اُمید اور دعا کے رنگ میں کہ یہ بچہ اسم با مسمی بنے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ ظاہر ہے کہ اندرونی خاصیت کی مشابہت کی رو سے دو نیک آدمی ایک ہی نام کے مستحق ہو سکتے ہیں اور ایسا ہی دو بد آدمی بھی ایک ہی بد مادہ میں شریک مساوی ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے قائم مقام کہلا سکتے ہیں مسلمان لوگ جو اپنے بچوں کے نام احمد اور موسیٰ اور عیسی اور سلیمان اور داؤد وغیرہ رکھتے ہیں تو درحقیقت اسی تفاول کا خیال انہیں ہوتا ہے جس سے نیک فال کے طور پر یہ ارادہ کیا جاتا ہے کہ یہ بچے بھی ان بزرگوں کی روحانی شکل اور خاصیت ایسی اتم اور اکمل طور سے پیدا کر لیں کہ گویا انہی کا روپ ہو جائیں۔( توضیح مرام، روحانی خزائن ، جلد ۳ صفحہ ۵۹) بَابِ ٤٥ : لَا هَامَةَ ایسا کوئی الو نہیں ہو تا جس میں مردے کی روح جنم لیتی ہے ٥٧٥٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ :۵۷۵۷: محمد بن حکم نے ہم سے بیان کیا کہ نفر حَدَّثَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ أَخْبَرَنَا ( بن شمیل) نے ہمیں بتایا۔اسرائیل نے ہمیں خبر أَبُو حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ دى - ابوحصین (عثمان بن عاصم اسدی) نے ہمیں أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ بتایا۔ابوھین نے ابو صالح (ذکوان) سے ، ابو صالح صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ۔ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا: نہ تو چھوت کا لگنا ہے اور نہ بدشگونی اور نہ کوئی ایسا الو ہوتا ہے جس میں مردے کی روح جنم لیتی ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہوتا ہے۔أطرافه (۱۷۰۷، ۵۷۱۷، ۰۷۷۰، ۵۷۷۳، ۰۷۷۰ (صحیح البخاری، کتاب الشروط ، باب الشروط فی الجهاد، روایت نمبر ۲۷۳۱)