صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 159
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۵۹ ۷۶ - كتاب الطب دوہرائی اور فرمایا کہ تو شکل کی وجہ سے اللہ تعالٰی اسے دور فرما دیتا ہے۔یعنی اگر تو گل کامل ہے تو پھر اگر دل میں کوئی خیال بھی پیدا ہو گا تو شاید اس تو کل کی وجہ سے دور ہو جائے۔اس لئے یہ جو بد شگونی اور اس قسم کی چیزیں ہیں ان چیزوں سے بچنا چاہیئے کیونکہ یہ شرک کے برابر ہیں۔کتنا بڑا انذار ہے۔“ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۸، اپریل ۲۰۰۵، جلد ۳ صفحه ۲۲۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: طائیر کے معنے پرندے کے ہیں۔لیکن عرب لوگ چونکہ پرندوں سے شگون لیا کرتے تھے اس لئے شگون کے لئے بھی کائیر کا لفظ بول لیا جاتا ہے چنانچہ مسافر کو رخصت کرتے وقت دعا کے طور پر کہتے ہیں سر عَلَى الطَّائِرِ الْمَيْمُونِ مبارک شگون پر چل۔اسی طرح کہتے ہیں هُوَ مَيْمُونُ الطَّائِرِ۔اور مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ - مبارک چہرے والا ہے۔اسی طرح انسانی اعمال کو بھی خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، طائر کہتے ہیں۔اور ستارے کو بھی طائر کہتے ہیں کیونکہ ستاروں سے بھی نحوست اور بھلائی کے حالات معلوم کئے جاتے ہیں۔(اقرب) ( تفسیر کبیر، سورة النمل ، زیر آیت قَالُوا اظيرُنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَعَكَ جلدی صفحه ۳۹۸) نیز فرمایا: جن لوگوں کو وہم ہو جاتا ہے وہ بعض دفعہ معمولی معمولی باتوں سے ایسے نتائج اخذ کر لیتے ہیں جو کسی اور انسان کے واہمہ میں بھی نہیں آتے۔مولوی یار محمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے ان کے دماغ میں نقص تھا۔بعض دفعہ باتیں کرتے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ہاتھ کو حرکت دیتے تو مولوی یار محمد صاحب جھٹ کود کر آگے آجاتے اور سمجھتے کہ یہ اشارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے لئے کیا تھا۔اسی طرح جن میں وہم کا مرض پیدا ہو جاتا ہے وہ بعض دفعہ پرندوں کی پرواز سے فال لینا شروع کر دیتے ہیں۔دائیں طرف سے کوئی پرندہ گزر جائے تو سمجھتے ہیں کہ ہمیں کام میں کامیابی ہو جائے گی اور اگر بائیں طرف سے گزر جائے تو سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں نحوست کا سامنا کرنا ہو گا۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ العلق، جلد ۹ صفحه ۲۴۸)