صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 158 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 158

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۵۸ -24 ۷۶ - كتاب الطب طير - یعنی تین چیزیں جس شخص میں ہوں وہ بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا جو اپنی انکل سے غیب کی خبر دے یعنی آئندہ کی بات بتائے یا فال کے تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرے یا بد شگونی کے سبب اپنے سفر سے رُک جائے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں: تیروں سے فال لینے کی رسم بھی عام تھی۔ہر کام کرتے ہوئے تیر سے فال لیتے تھے۔کعبہ میں بھی فال کے تیر رکھے ہوئے تھے اور وہاں جاکر لوگ فال نکالتے تھے۔پرندوں کی اڑان سے بھی فال لینے کا دستور تھا۔ایک عجیب رسم عرب کے بعض قبائل میں یہ تھی کہ جب کسی سفر کے ارادے سے گھر سے نکلتے تھے تو اگر راستہ میں کسی وجہ سے واپس آنا پڑتا تھا، تو دروازوں کے ذریعہ اندر نہ داخل ہوتے تھے بلکہ پشت کی طرف سے آتے تھے۔قرآن شریف میں بھی اس کی طرف اشارہ آتا ہے۔بعض قبائل میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی آدمی مر جاتا تھا تو اس کی قبر کے پاس اس کے اونٹ کو باندھ دیتے تھے حتی کہ وہ بھوک پیاس سے مر جاتا تھا۔عورتوں میں سخت نوحہ کرنے کی عادت تھی۔سال سال تک ما تم چلا جاتا تھا۔عرب میں بالعموم عورتیں جانوروں کا دودھ نہ دوہتی تھیں اور اسے عورت کے لیے ایک عیب سمجھا جاتا تھا۔اگر کسی خاندان میں کوئی عورت ایسا کرتی دیکھی جاتی تھی تو وہ خاندان دوسروں کی نظروں میں گر جاتا تھا۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی و کم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ ۶۷،۶۶) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”آجکل کے حالات کے مطابق مسلمانوں میں تو یہ عموماً پایا جاتا ہے لیکن غیروں کی دیکھا دیکھی بعض احمدیوں میں بھی تعویذ گنڈوں پر اعتقاد پیدا ہو گیا ہے جو بالکل غلط چیز ہے۔اس سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔کیونکہ وہی لوگ جو اللہ پر توکل کرتے ہیں اور ان برائیوں سے بچنے والے ہیں، ٹونے ٹوٹکوں سے بچنے والے ہیں۔تعویذ گنڈوں سے بچنے والے ہیں، وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہیں۔اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنا چاہئے اور اسی کی پناہ میں رہنا چاہئے۔بلکہ آپ نے تو ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ بدشگونی شرک ہے۔تو آپ نے تین مرتبہ یہ بات (تاریخ ابن عساکر، رجاء بن حيوة، جزء ۱۸ صفحه ۹۸)