صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 157
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۵۷ -24 ۷۶ - كتاب الطب ٥٧٥٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۵۷۵۴ : ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ کہا عبيد الله بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے خبر دی أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى که حضرت ابو ہریرہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا طِيَرَةً وَخَيْرُهَا الله علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے شگون کچھ الْقَالُ قَالُوا وَمَا الْفَالُ قَالَ الْكَلِمَةُ نہیں اور ان چیزوں سے بہتر فال لینا ہے۔لوگوں نے کہا فال کیا ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھی الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ۔طرفه: ٥٧٥٥۔بات جس کو تم میں سے کوئی سن لیتا ہے۔الطيرةُ: شگون لینا۔علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں مشرکین پرندوں پر اعتماد تے تھے ، جب ان میں سے کوئی شخص کسی کام کے لیے نکتا تو وہ پرندے کی طرف دیکھتا اگر وہ پرندہ دائیں طرف اُڑتا تو وہ اس سے نیک شگون لیتا اور اپنے کام پر روانہ ہو جاتا اور اگر وہ پرندہ بائیں جانب اُڑتا تو وہ اس سے بد شگونی لیتا اور لوٹ آتا ، بعض اوقات وہ کسی مہم پر روانہ ہونے سے پہلے خود پرندے کو اُڑاتے تھے ، پھر جس جانب وہ اُڑتا تھا اس پر اعتماد کر کے اس کے مطابق مہم پر روانہ ہوتے باڑک جاتے۔جب شریعت آگئی تو ان کو اس طریقہ سے روک دیا۔(فتح الباری، جزء ه ا صفحه ۲۶۲) ابو داؤد میں ایک حدیث ہے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: الْعِيَافَةُ وَالطَّيَرَةُ وَالطَّرُقُ مِنَ الجنت۔یعنی اچھا برا شگون لینے کےلیے پرندہ اڑانا، بد شگونی لیا اور طوق (یعنی کنکر پھینک کر باریت میں لکیر کھینچ کر بدش فال نکالنا ) شیطانی کاموں میں سے ہے۔فرمايا: من ردته الطيرَةُ عَنْ شَيْءٍ فَقَدْ فَارَفَ الميزك " یعنی جسے بدشگونی لینے نے کسی چیز سے روک دیا وہ شرک میں مبتلا ہو گیا۔فرمایا: ليس منا من تطير ولا نظير له یعنی جس نے بدشگونی لی اور جس کے لیے بد شگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں ہے ( یعنی ہمارے طریقے پر نہیں ہے)۔فرمانِ نبوی ہے : ثَلَاثٌ مَنْ كُن فِيهِ لَمْ يَلِ الدَّرَجَاتِ العُلى مَنْ تَكَهَنَ أَوِ اسْتَقْسَمَ أَوْ رَذَهُ مِنْ سَفَرِهِ (سنن ابو داود، کتاب الطب، باب في الخط و زجر الطير) (مسند البزار، مستدر ويفع بن ثابت، جزء ۲ صفحہ ۳۰۰) (المعجم الكبير للطبرانی، جزء ۱۸ صفحه ۱۶۲ روایت نمبر ۳۵۵)