صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 156 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 156

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۵۶ ۷۶ کتاب الطب أَبْنَاؤُنَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اصحاب آپس میں بات چیت کرنے لگے۔انہوں وَسَلَّمَ فَقَالَ هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ نے کہا: ہم شرک میں ہی پیدا ہوئے تھے لیکن ہم وَلَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ نے اللہ اور اس کے رسول کو مان لیا ہے۔ان يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ (مذکورہ) لوگوں سے ہماری اولادیں مراد ہیں۔فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ في صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی آپ نے نَعَمْ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا فَقَالَ فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ شگون لیتے ہیں، اور نہ ہی داغ لگواتے ہیں اور نہ جنتر منتر کرواتے ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل رکھتے ہیں۔یہ سن کر حضرت عکاشہ بن محصن اُٹھے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! آیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا، ہاں ایک دوسرا شخص اُٹھا اور کہنے لگا: کیا میں بھی اُن میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا : سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ۔عکاشہ اس میں تم پر سبقت لے گیا۔أطرافه: ٣٤١٠ ٥٧٠٥ ٦٤٧٢، ٦٥٤١۔بَاب ٤٣ : الطَّيَرَةُ شگون لینا ٥٧٥٣ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۵۷۵۳: عبد اللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عثمان بن عمر نے ہمیں بتایا کہ یونس ( بن یزید ایلی) عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نے ہم سے بیان کیا۔یونس نے زہری سے، زہری اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی نے سالم سے ، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا رَضِيَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا فرمایا: نہ تو چھونے سے بیماری ہوتی ہے اور نہ ہی طِيَرَةَ وَالسُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْمَرْأَةِ شگون کوئی معنی رکھتا ہے اور نحوست تین چیزوں میں ہے عورت میں اور گھر میں اور جانور میں۔وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ۔أطرافه : ۲۰۹۹، ٢٨٥۸، ٥٩، ٥٠٩٤، ۵۷۷۲