صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 153
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۵۳ ٧٦ - كتاب الطب وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْم۔دم کرنے والے نے کہا: جب تک ہم رسول اللہ أطرافه: ٢٢٧٦، ٥٠٠٧، ٥٧٣٦۔صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر یہ واقعہ بیان نہ کر لیں تک تک تقسیم نہ کرو۔ہم دیکھیں گے کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔آپ سے اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا تمہیں کیسے علم ہوا کہ سورۃ فاتحہ دم ہے ؟ تم نے ٹھیک کیا۔تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ نکالو۔بَاب ٤٠ : مَسْحُ الرَّاقِي الْوَجَعَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى دم پڑھنے والے کا درد کے مقام پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرنا رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بَعْضَهُمْ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ ٥٧٥٠ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۵۷۵۰ : عبد اللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ كه يحي بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ نے سفیان ثوری) سے، سفیان نے اعمش سے، اعمش نے مسلم سے مسلم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی آپ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض لوگوں کے لئے ان کی بیماری میں پناہ کی دعا کرتے النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ تھے۔آپ اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے تھے إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا (اور دعا کرتے تھے:) اے لوگوں کے رب اس فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ تکلیف کو دور فرما اور شفا دے تو ہی شفا دینے والا عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ ہے۔تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ہے۔ایسی