صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 149
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۴۹ ۷۶ - كتاب الطب کوئی شخص کسی افسر کے پاس اپنے کسی کام کے لئے درخواست کرنے کے لئے جاوے اور پھر بجائے اس کے کہ خود اس کو بار بار توجہ دلائے اس کو کہہ دیوے کہ اپنی میز پر ایک کاغذ لکھ کر رکھ چھوڑیں جس سے میرے معاملہ کی یاد تازہ ہوتی رہے۔یہ چیزیں انسان کو دعا سے غافل کر دینے والی ہیں اور خدا کی طرف بار بار رجوع کرنا جو ایمان کی جڑ ہے اس سے انسان کو دور کر دیتی ہیں۔“ (الفضل ۲۶ فروری ۱۹۲۴ء صفحہ ۸) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا ” تعویذ کا باندھنا یا دم وغیرہ کرانا کیسا ہے ؟ بجواب حضرت اقدس نے حضرت مولوی حکیم نورالدین کی طرف مخاطب ہو کر پوچھا کہ آپ نے احادیث میں اس کے متعلق کچھ پڑھا ہے۔عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید جب کبھی جنگوں میں جایا کرتے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک پگڑی یا ٹوپی میں رکھ لیا کرتے تھے اور آگے کی طرف لٹکا لیتے اور جب ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوایا تو آدھے سر کے کٹے ہوئے بال ایک شخص کو دے دیئے اور آدھے دوسرے حصہ کے باقی اصحاب کو بانٹ دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات مجتبہ شریف دھو کر مریضوں کو بھی پلایا کرتے تھے اور وہ شفایاب ہو جایا کرتے تھے۔ایسا ہی ایک دفعہ ایک عورت نے آپ کا پسینہ بھی جمع کیا۔یہ سب سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ان تعویذ و دموں کی اصل کچھ نہ کچھ ضرور ہے جو خالی از فائدہ نہیں۔میرے الہام میں جو ہے کہ "بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ اس سے بھی تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تو ہو گا جو بادشاہ ایسا کریں گے۔اصل بات یہ ہے کہ ان باتوں کی بنا محبت و اخلاص پر ہے۔صادقوں کی نکتہ چینی کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ بزرگوں کے صغائر پر نظر کرنے سے سلب ایمان کا اندیشہ ہے۔“ (الحکم ۷ ار جولائی ۱۹۰۳ء) ایک دوست نے سوال کیا کہ مجھے قرآن شریف کی کوئی آیت بتلائی جاوے کہ میں پڑھ کر اپنے بیمار کو دم کروں تا کہ اس کو شفا ہو ؟ حضرت نے فرمایا: ”بے شک قرآن شریف میں شفا ہے۔روحانی اور جسمانی بیماریوں کا وہ علاج ہے مگر