صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 148
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۴۸ ٧٦ - كتاب الطب نا مجددیت ہے۔اسی کا نام مہدویت ہے۔اور اس کے نتیجہ میں اب جماعت جو ابھر کر اور نکھر کر دنیا کے سامنے آئی ہے اس کا مرکزی نقطہ دعا ہے۔اس کی ساری زندگی اس کے تمام اعمال اور تمام کامیابیاں اس کی تمام کاوشیں اس کے غم و فکر کے علاج دعا میں ہیں۔اور دعا کو چھوڑ کر تعویذ گنڈوں کی طرف جانا حد سے زیادہ جہالت ہے۔یہ تاریک زمانے کی پیداوار باتیں ہیں۔اور ایسی قوموں کو دعا سے ہٹا کر جادو منتر وغیرہ کی طرف منتقل کر دیتی ہیں۔یہ کہہ دینا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دم کی اجازت دی۔یہ ایک بالکل الگ بات ہے۔تعویذ گنڈے کا معاشرہ پیدا کرنا بالکل الگ بات ہے۔آنحضرت کے زمانے میں ایسا ہرگز یہ کوئی معاشرہ نہیں تھا۔دعا ہی کا معاشرہ تھا اور جس دم کی بات کرتے ہیں اس میں سورۃ فاتحہ بطور دعا استعمال ہوتی ہے اور وہ اب بھی اسی طرح جائز ہے فاتحہ کو دعا کے طور پر آپ چاہے پانی پر پڑھ کے دم کریں اور نفسیاتی لحاظ سے اس کو برکت کے لئے دے دیں۔اس حد تک تو کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن تعویذ گنڈے کی یہ تو بہت خطرناک بیہودہ رسم ہے۔جو روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جانے والی ہے۔“ (مجلس عرفان، الفضل ۴ دسمبر ۲۰۰۲ صفحه ۳، ریکارڈنگ ۴ نومبر ۱۹۹۴ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ حضور کی خدمت میں اگر کوئی چیز دم کرنے کے لئے (مثلاً سرمہ) بھیجی جائے تو حضور کی اس میں کیا رائے ہے؟ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا: دم۔۔۔مریض پر تو رسول اللہ صلی علیم سے ثابت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ عقلاً اس کا فائدہ اور اس کی حکمت معلوم ہوتی ہے۔باقی چیزوں پر دم کر کے بھیجنا نہ رسول اللہ صلی علیم سے ثابت ہے گو اس میں بھی بعض حالات میں فائدہ ہو سکتا ہے۔مگر اس سے بعض ایسے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جو خطرناک ہیں، ان کا فائدہ کم ہے اور نقصان زیادہ ہے۔یہ روحانیت پر ایسا اثر ڈال دیتی ہیں کہ خدا تعالیٰ سے دور کر دیتی ہیں اور انسان مادی چیزوں کی طرف ہی راغب ہو جاتا ہے۔دم کی مثال بالکل اس شخص کی ہے جیسے