صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 147
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۴۷ ۷۶ - كتاب الطب بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لیے یوں دعا کرتے : اللہ کے نام سے یہ ہماری يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا ۔ زمین کی مٹی ہے۔ ہم میں سے کسی کے لعاب سے ہمارا بیمار ہمارے رب کے حکم سے شفا پا جائے۔ طرفه: ٥٧٤٦ ٥٧٤٦: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۵۷۴۶ : صدقہ بن فضل نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ عبدربہ بن سعید سے، عبد ربہ نے عمرہ سے، عمرہ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ آپ فرماتی ہیں: فِي الرُّقْيَةِ بِسْمِ اللهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا وَرِيقَةُ في صلی اللہ علیہ وسلم دم کرتے وقت (بھی) یوں بھی بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا ۔ دعا کرتے تھے: اللہ کے نام سے یہ ہماری زمین کی مٹی ہے اور ہم میں سے کسی کا لعاب ہے ہمارا بیمار طرفه: ٥٧٤٥ ہمارے رب کے حکم سے شفا پائے۔ تشريح : رُقْيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم یصلی الہ علیہ ولی کام کرنا باب ۳ ۳۸ میں دم کا ذکر ہے اور احادیث الباب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دعاؤں کا ذکر ہے جو آپ مریضوں پر پڑھتے تھے۔ آپ کی دعا، توجہ روحانی اور ہاتھ کی برکت سے ان بیماروں کو شفا ہوتی تھی۔ مگر بعد کے زمانوں میں اسی دم سے تعویز گنڈوں اور مشرکانہ رسوم کا جو سلسلہ بعض لوگوں نے اپنی دکانداری یا نام نہاد کرامات کی صورت میں شروع کیا اور جس کی آج کے معاشرے میں نہایت ظالمانہ اور بیہودہ صورتیں دکھائی دیتی ہیں ان کا اس دم اور دعا سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مریضوں کے لیے کرتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ سے ایک مجلس میں سوال ہوا، تعویز گنڈے کروانے کے بارے میں ارشاد فرمائیں کیا یہ اچھی بات ہے یا بری ؟ جواب: فرمایا: " تعویز گنڈہ وغیرہ کو دستور زندگی بنالینا حد سے زیادہ جہالت ہے۔ اور تمام دینی معاشرہ کی روح اس سے تباہ ہو جائے گی۔ اصل دعا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے تیرہ سو سال کی جو رسوم کے خلاف ایک عظیم جہاد فرمایا۔ اور دین حق کو اس کی اصل صورت پہ بحال کرنے کے لئے بہت بڑی جدوجہد فرمائی ہے۔ یہی دراصل