صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 144 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 144

م ۱۴ صحیح البخاری جلد ۱۴ ٧٦ - كتاب الطب اس علم کا ایک مثبت اور مفید پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ اس پر مشق اور مہارت پیدا کر کے اس سے بیماریاں دور کرتے تھے اور لوگوں کو فائدہ پہنچاتے تھے۔ان میں سے بعض اس کو اپنے معجزات قرار دے کر پیسے کمانے کا ذریعہ بنالیتے ہیں اور بعض محض خدمت خلق کے طور پر اسے استعمال کرتے تھے۔اس علم کے ذریعہ علاج کرنے والے لوگ تمام مذاہب میں پائے جاتے ہیں۔تاریخ اسلام میں بھی بہت سے مسلمان صوفیاء اور اولیاء ایسے تھے جنہوں نے علم تو جہ میں مہارت پیدا کر کے صدہا بیماروں کو اپنے آس پاس بٹھا کر اپنی ایک نظر سے دیکھ کر ان کو شفادی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” سائکو اپنی لیس (Psychoanalysis) کے طریق علاج نے بہت ایسی امراض کے علاج کا دروازہ کھول دیا ہے جو فکر و خیال کے نتیجے میں پید اہوتے ہیں اور جن کا علاج صرف دواؤں سے ہو نانا ممکن تھا۔علاج بالتوجہ اور توجہ ذاتی نے شفا کو انسان کے ایسے قریب کر دیا کہ گویا شفا حاصل کرنے کے لیے ارادہ کی دیر ہوتی ہے ارادہ کیا اور بہت سی شفا ہوئی۔“ دنیا میں سچا مذ ہب صرف اسلام ہی ہے ، انوار العلوم، جلد ۱۳ صفحہ ۱۱۰) بَابِ ۳۷: رُقْيَةُ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ سانپ اور بچھو کا دم ٥٧٤١ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۵۷۴۱ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عبد الواحد بن زیاد ) نے ہمیں بتایا کہ سلیمان (بن الشَّيْبَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ فیروز شیبانی نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الرحمن الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بن اسود نے ہمیں بتایا انہوں نے اپنے باپ سے عَنِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ فَقَالَتْ رَخَّصَ روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّقْيَةَ سے ڈسنے کے دم کے متعلق پوچھا۔انہوں نے مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ۔فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ڈسنے والے جانور کی وجہ سے دم کی اجازت دی۔