صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 143
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱ ۷۶ - كتاب الطب اس کو دیکھتے ہیں ، تو جن کی آنکھوں میں وہ قوت زیادہ ہوتی ہے وہ جب اپنے حسد کے بھرے ہوئے خیالات کے ساتھ اس چیز پر نظر ڈالتے ہیں، توجہ مرکوز کرتے ہیں تو اس چیز پر بھی اثر ہوتا ہے جسے عرف عام میں نظر لگنا کہا جاتا ہے۔جیسا کہ حدیث الباب میں بیان کیا گیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا العين حق۔نظر لگنا حق ہے۔آج کل اس کو ہپناٹزم مسمریزم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔یہ پیراسائیکالوجی (Parapsychology) کی قسم ہے۔کسی کو اگر نظر لگ جائے اور اسے محسوس ہو جائے کہ اسے نظر لگ گئی ہے تو وہ نسل کرلے۔لے غسل کے نتیجے میں جب پانی اس کے بدن پر پڑے گا اس کی اعصابی قوت بیدار ہو گی اور جو کسی کی نظر کے اثرات اس پر ہوئے ہیں وہ زائل ہو جائیں گے۔پرانے زمانے میں اس کو علم توجہ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔بعض لوگ پیسے کمانے کے لیے یا اپنی کرامات جتانے کے لیے، اپنی اس استعداد کو بعض قواعد کے تحت مشق کر کے بہت ترقی دے دیتے تھے۔اور اس کے نتیجے میں لوگوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ عام خیال ہے کہ بچوں کو نظر لگ جاتی ہے کیا یہ درست ہے اگر درست ہے تو اس کا علاج کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں لگ جاتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی طاقت رکھی ہے کہ ایک کے خیالات کا اثر دوسرے کے اوپر جاکر پڑتا ہے۔جب انسان ہر چیز کو نہایت ہی محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اس وقت اس کے دل میں اگر محبت کے خیالات پیدا ہوتے ہیں تو ساتھ ہی مخفی طور پر ایک خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے اور ایسے ہی دوسرے شخص میں ، بچہ ہو خواہ جو ان منتقل ہو کر ایک قسم کا احساس کمزوری یا مایوسی کا کر دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔یہ ایک طبعی بات ہے رسول کریم کے بعض اقوال سے بھی مستنبط ہوتا ہے۔شریعت نے اس کو غیر معقول نہیں قرار دیا۔ایسے لوگ جن کے دل زیادہ برداشت نہیں کر سکتے تھوڑی تھوڑی باتوں پر ان کی توجہ بہت ہی گہری ہو جاتی ہے۔ان لوگوں کے ایسے خیالات جو ہیں وہ دوسرے کے دل پر اثر کر جاتے ہیں اور اسی کا نام نظر ہوتا ہے۔پس اگر ایسی حالت میں کوئی بیمار ہو جائے تو اس صورت میں سورۃ فاتحہ یا قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور بِرَبِّ الناس پڑھ کے بچے پر دم کیا جاوے یا اگر بچہ نہیں جانور وغیرہ ہے تو اس پر ہاتھ پھیر دیا جاوے تو یہ دعا کی دعا بھی ہوتی ہے اور توبہ کی تو بہ بھی۔ا (صحیح مسلم، کتاب السّلامِ ، بَابُ اللبِ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى) الفضل قادیان، مورخه ۴ مارچ ۱۹۲۴ء صفحه ۵)