صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 142 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 142

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۴۲ ۷۶ - كتاب الطب صا الله حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ نے ہمیں بتایا کہ زہری نے ہمیں خبر دی۔ زہری أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت زینب عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بنت ابی سلمہ سے، حضرت زینب نے حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی علی ام نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ فَقَالَ اسْتَرْقُوا لَهَا فَإِنَّ پر داغ تھے۔ آپ نے فرمایا: اس کے لئے دم کراؤ کیونکہ اس کو نظر لگی ہے اور عقیل نے بھی زہری بِهَا النَّطْرَةَ۔ وَقَالَ عُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ سے اسی حدیث کو نقل کیا۔ انہوں نے کہا) مجھے أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ الله علم عروہ نے نبی صلی علیم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ (محمد بن حرب کی طرح) عبد اللہ بن سالم نے بھی عَنِ الزُّبَيْدِي۔ زبیدی سے اسے روایت کیا۔ بَاب ٣٦ : الْعَيْنُ حَقٌّ نظر لگ جانا سچ ہے ٥٧٤٠ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ۵۷۴۰: اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عبدالرزاق نے ہمیں : میں بتایا۔ انہوں نے معمر سے معمر الله هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے تمام سے، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے ، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الْعَيْنُ حَقٌّ وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ۔ روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: نظر لگ جانا سچ ہے اور آپ نے گدوانے سے منع فرمایا۔ طرفه: ٥٩٤٤ تشریح العين حق : نظر لگ جانا ہے۔ انسانی جسم کے اعضاء میں مختلف قوتیں پنہاں ہیں کسی کے اندر یہ قوتیں کم ہیں اور کسی کے اندر زیادہ انسانی قوتوں میں سے ایک قوت اس کی آنکھ اور نظر کی کے میں سے قوت ہے۔ جب انسان کسی چیز کو دیکھتا ہے اور وہ اسے بہت اچھی لگتی ہے تو بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جن کے دلوں میں حسد پیدا ہوتا ہے۔ جب وہ اسے دیکھتے ہیں تو وہ اپنے برے خیالات کو پوری طرح مجتمع کر کے جل بھن کر