صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 142
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۴۲ ٧٦ - كتاب الطب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ نے ہمیں بتایا کہ زہری نے ہمیں خبر دی۔زہری أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت زینب عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بنت الىی سلمہ سے، حضرت زینب نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ أم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی ا ونم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ فَقَالَ اسْتَرْقُوا لَهَا فَإِنَّ پر داغ تھے۔آپ نے فرمایا: اس کے لئے دم کراؤ کیونکہ اس کو نظر لگی ہے اور عقیل نے بھی زہری بِهَا النَّظْرَةَ۔وَقَالَ عُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ سے اسی حدیث کو نقل کیا۔(انہوں نے کہا ) مجھے أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عروہ نے نبی صلی ال نیم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔تَابَعَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ (محمد بن حرب کی طرح) عبد اللہ بن سالم نے بھی عَنِ الزُّبَيْدِي۔زبیدی سے اسے روایت کیا۔بَاب ٣٦ : الْعَيْنُ حَقٌّ نظر لگ جانا سچ ہے ٥٧٤٠ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ :۵۷۴۰ اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے ہعمر هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ سے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الْعَيْنُ حَقٌّ وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ۔روایت کی۔آپ نے فرمایا: نظر لگ جانا سچ ہے اور آپ نے گدوانے سے منع فرمایا۔طرفه: ٥٩٤٤۔ریح : العين حق : نظر لگ جانا چ ہے۔انسانی جسم کے اعضاء میں مختلف قوتیں پنہاں ہیں کسی کے اندر یہ قوتیں کم ہیں اور کسی کے اندر زیادہ۔انسانی قوتوں میں سے ایک قوت اس کی آنکھ اور نظر کی قوت ہے۔جب انسان کسی چیز کو دیکھتا ہے اور وہ اسے بہت اچھی لگتی ہے تو بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جن کے دلوں میں حسد پید اہوتا ہے۔جب وہ اسے دیکھتے ہیں تو وہ اپنے برے خیالات کو پوری طرح مجتمع کر کے جل بھن کر