صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 139 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 139

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۳۹ ۷۶ - كتاب الطب وَقَالُوا أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللهِ أَجْرًا دینے کی شرط پر سورۃ فاتحہ کو پڑھا اور وہ اچھا ہو حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ گیا اور وہ بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لے اللهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللهِ أَجْرًا فَقَالَ آیا۔انہوں نے اسے ناپسند کیا اور کہنے لگے : تم رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے۔جب وہ مدینہ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللهِ میں پہنچے تو کہنے لگے: یا رسول اللہ ! اس نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں کا تم معاوضہ لیتے ہو ان سب سے بڑا حق تو اللہ کی کتاب کا ہے۔تشريح: الشروط في الرقية بفاتحة الكتاب: سورۃ فاتحہ سے دم کرنے میں کوئی شرط رکھنا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: امام ابو حنیفہ وغیرہ نے آیات قرآنِ مجید کی برکت سے جہاں علاج معالجہ کرنے کی اجازت کا فتویٰ دیا ہے، وہاں تعلیم قرآن پر اجرت لینا ناجائز قرار دیا ہے کیونکہ قرآنِ مجید پڑھانا ایک قسم کی عبادت ہے۔جیسا کہ اذان اور امامت الصلاۃ میں بھی اجرت لینا ان کے نزدیک جائز نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۹۵) امام احمد بن جنبل" نے حضرت عبد الرحمن بن شبل کی ایک مرفوع روایت نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں: آقْرِوُا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ یعنی قرآنِ مجید پڑھاؤ لیکن اس کو روزی کا ذریعہ نہ بناؤ اور نہ اس کے لیے زیادہ مطالبہ کرو اور اس کے پڑھانے سے اعراض نہ کرو۔(مسند احمد بن حنبل، مسند المكيين، زيادة في حديث عبد الرحمن بن شبل، جزء ۳ صفحه ۴۲۸) مگر امام شافعی اور ابولیٹ وغیرہ کے نزدیک اس قسم کی اجرت جائز ہے۔جمہور کا بھی یہی فتویٰ ہے۔علامہ عینی نے عدم جواز کے بارے میں متعدد روایتیں نقل کی ہیں جن میں امام احمد بن حنبل کی مذکورہ بالا روایت بھی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۹۵ ۹۷۳) اَحَقُّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ الله: جن آئمہ نے تعلیم قرآن پر اجرت ناجائز قرار دی ہے انہوں نے حدیث اَحَقُّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللهِ مِیں