صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 140
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۴۰ ۷۶ - كتاب الطب لفظ آجر کے معنی ثواب کئے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: کتاب اللہ سب سے زیادہ تحق ہے کہ تم اس پر اجر لو یعنی ثواب حاصل کرو۔۔۔۔ لَا يَشْتَرِطُ الْمُعَلِّمُ إِلَّا أَنْ يُعْطَى شَيْئًا فَلْيَقْبَلُهُ: امام شعبی کا حوالہ ابن ابی شیبہ نے موصولاً نقل کیا ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم پر اجرت کا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر دی جائے تو رڈ نہ کی جائے۔ یہی مفہوم ہے لَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ کا۔ یہی بات عنوان باب میں نمایاں کی گئی ہے۔ لَمْ اسْمَعْ أَحَدًا كَرِةَ أَجْرَ الْمُعَلِّمِ : حکم بن عیینہ کا حوالہ بغوی سے جعدیات میں منقول ہے۔ انہوں نے علی بن جعد کی روایتیں ایک جگہ اکٹھی کی ہیں۔ ان میں سے ان کی یہ روایت بھی ہے کہ معاویہ بن قرہ معلم کے نزدیک معلم قرآن کی اجرت جائز تھی۔ (فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۵۷۳) وَاعْطَى الْحَسَنُ دَرَاهِمَ عَشَرَةً: حسن بصری کا حوالہ طبقات ابن سعد میں مروی ہے کہ انہوں نے دس درہم معلم کو اُجرت دی جس نے اُن کے بھتیجے کو قرآن مجید پڑھایا تھا۔ ختم قرآن پر معلم نے اُجرت کی خواہش کی تو انہوں نے پہلے تو یہ جواب دیا کہ صحابہ کرام تعلیم قرآن پر اجرت نہیں لیا کرتے تھے۔ پھر بھتیجے کے اصرار پر دس درہم دیئے۔ الطبقات الكبرى لابن سعد، جزء کے صفحہ ۱۷۵، ۱۷۶) وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ بِأَجْرِ الْقَسَّامِ بَأْسًا: محمد بن سیرین کا فتویٰ مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بغیر شرط ٹھہرانے کے اگر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح ان کے نزدیک حصص تقسیم کرنے والے یا غلہ کا اندازہ کرنے والے کو بغیر شرط کے اُجرت دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۹۸) ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۵۷۳) سب فقہاء کے نزدیک چھوٹے چھوٹے کاموں کا معاوضہ اگر بغیر مطالبہ ملے تو وہ لیا جا سکتا ہے، ورنہ مانگ کر اُس کا معاوضہ لینا مکروہ ہے۔ ایک ہی عنوان میں ان سب جاسکتا فتووں کا یکجا ذکر کیا گیا ہے۔ صحابہ کرام کا تقویٰ دیکھا جائے۔ جنہوں نے مہمان نوازی