صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 138
صحیح البخاری جلد ۱۴ الله ۷۶ - كتاب الطب بِالشَّاءِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُهُ حَتَّى نَسْأَلَ پڑھنے لگا اور اپنا تھوک اکٹھا کرتا اور اس پر لعاب رض النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ لگاتا وہ اچھا ہو گیا اور وہ بکریاں لائے۔ صحابہ کہنے فَضَحِكَ وَقَالَ وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ لگے: ہم یہ بکریاں نہیں لیں گے جب تک کہ نبی خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْم۔ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیں۔ انہوں نے آپ أطرافه: ٢٢٧٦، ٥٠٠٧، ٥٧٤٩۔ سے پوچھا۔ آپ ہنس پڑے اور فرمایا : تمہیں کیا پتہ کہ سورۃ فاتحہ بھی ایک دم ہے ؟ انہیں لے لو اور میرا بھی ایک حصہ نکالو۔ باب ٣٤: الشروطُ فِي الرُّقْيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ سورۃ فاتحہ سے دم کرنے میں کوئی شرط رکھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند لوگ ٥٧٣٧ : حَدَّثَنَا سِيدَانُ بْنُ مُضَارِبٍ ۵۷۳۷: سید ان بن مضارب ابو محمد باہلی نے ہم أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ سے بیان کیا کہ ابو معشر بصری نے جو کہ بڑے سچے الْبَصْرِيُّ هُوَ صَدُوقٌ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ تھے ، ان کا نام یوسف بن یزید البراء تھا ہمیں بتایا۔ الْبَرَّاءُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ انہوں نے کہا عبید اللہ بن اخنس ابو مالک نے مجھ سے بیان کیا۔ عبید اللہ نے ابن ابی ملیکہ سے، الْأَخْنَسِ أَبُو مَالِكٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةً انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ ایک چشمہ پر سے گزرے۔ (وہاں جو قبیلہ تھا) ان فِيهِمْ لَدِيعٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ میں ایک کو بچھونے کاٹ کھایا تھا۔ (الدیغ کا لفظ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ کہا یا سلیم) تو ان چشمے والوں میں سے ایک شخص مِنْ رَاقٍ إِنَّ فِي الْمَاءِ رَجُلًا لَدِيعًا أَوْ ان کے سامنے آیا اور کہنے لگا: کیا تم میں کوئی دم سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ کرنے والا ہے ؟ اس چشمے پر ایک شخص ہے جسے بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ فَجَاءَ بچھونے ڈسا ہے۔ (لدیغ کا لفظ کہا یا سلیم) یہ سن کر بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَكَرِهُوا ذَلِكَ صحابہ میں سے ایک شخص چلا گیا۔ اس نے چند بکریاں