صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 137
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۶ - كتاب الطب قَالَ كَانَ يَنْفِتُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ يَمْسَحُ ہی ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تاکہ اس کی برکت بِهِمَا وَجْهَهُ۔ہو۔(معمر کہتے تھے۔میں نے زہری سے پوچھا۔أطرافه: 443٩، 5016، 5751۔آپ کیوں کر پھونکتے تھے انہوں نے کہا آپ اپنے ہاتھوں پر پھونکتے تھے پھر اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرتے تھے۔باب۳۳: الرُّقَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ سورۃ فاتحہ سے دم کرنا وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ اور یہ حضرت ابن عباس سے مذکور ہے حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔٥٧٣٦ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۵۷۳۶: محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، شعبہ نے ابوبشر أَبِي بِشرٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكَّلِ عَنْ سے ابوبشر نے ابو المتوکل سے، ابوالتوکل نے أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلے کے پاس پہنچے تو انہوں نے ان کو مہمان نہیں ٹھہرایا۔ابھی وہ اس حالت میں تھے کہ اتنے میں ان کے سردار كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ فَقَالُوا کو بچھونے ڈسا۔اُن لوگوں نے پوچھا کیا تمہارے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيَّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ فَبَيْنَمَا هُمْ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رَاقٍ فَقَالُوا ساتھ کوئی دم دوا کرنے والا ہے ؟ صحابہ نے کہا تم إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَا نَفْعَلُ حَتَّى نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا اور ہم بھی اس وقت تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا تک کوئی دم دعا نہیں کریں گے جب تک ہمارے مِنَ الشَّاءِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ لیے اجرت طے نہ کر لو۔انہوں نے ان کے لئے وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ فَبَرَأَ فَأَتَوْا کچھ بکریاں مقرر کیں اور ایک صحابی سورۃ فاتحہ