صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 136
۷۶ - كتاب الطب صحیح البخاری جلد ۱۴ جاتے ہیں جو قوم کے اس جرم میں شامل نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہ عذاب آیا ہوتا ہے۔ایسی صورت میں وہ بھی باقی لوگوں کی طرح اس عذاب کا شکار تو ہوں گے لیکن ایسے لوگوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا انجام ان کی نیتوں کے مطابق ہوگا۔قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَغْرُوجَيْشُ الكَعْبَةَ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، يُخْسَفُ بِأَوْلِهِمْ وَآخِرِهِمْ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ يُحْسَفُ بِأَوَلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ ، وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ۔قَالَ: يُحْسَفُ بِأَوْلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کعبہ پر ایک لشکر چڑھائی کرے گا۔جب وہ بیداء میں پہنچے گا تو اول سے لے کر آخر تک سب زمین میں دھنسا دیے جائیں گے (حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: یارسول اللہ ! وہ اوّل سے آخر تک کیسے دھنس جائیں گے ؟ جبکہ وہاں بازار بھی ہوں گے اور وہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اُس (لشکر) میں سے نہیں ہوں گے۔فرمایا: وہ اول سے آخر تک دھنسا دیئے جائیں گے۔پھر اپنی اپنی نیتوں کے مطابق اُٹھائے جائیں گے۔طاعون کے علاج کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اس کے لئے جونک کا لگوانا اور زیادہ مقدار میں مگنیشیا کا جلاب دے کر پھر کیوڑہ اور نریسی و غیر مصفی خون ادویہ کا استعمال کرنا بہت مفید اور مجرب ہے کیونکہ اس میں خونی وسوداوی مواد ہوتے ہیں۔یہ ان دو نو کا علاج ہے۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۵۷۵) باب ۳۲: الرُّقَى بِالْقُرْآنِ وَالْمُعَوَّذَاتِ قرآن اور معوذات سے دم کرنا ٥٧٣٥ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی ۵۷۳۵ : ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِي هشام بن یوسف) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے ( عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا معمر سے معمر نے زہری سے ، زہری نے عروہ سے، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت يَنْفِتُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں جس میں مَاتَ فِيهِ بِالْمُعَوَّذَاتِ فَلَمَّا ثَقُلَ كُنتُ آپ فوت ہو گئے تھے اپنے او پر معوذات پڑھ کر أَنْفِتُ عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ پھونکتے تھے۔جب آپ کی صحت کمزور ہو گئی تو میں لِبَرَكَتِهَا فَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ كَيْفَ يَنْفِثُ آپ پر ان سورتوں کو پڑھ کر پھونکتی تھی اور آپ کا (صحیح بخاری، کتاب البيوع، بَاب مَا ذُكِرَ فِي الأَسْوَاقِ)