صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 135 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 135

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۳۵ ۷۶ - كتاب الطب وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ - أَنَّهَا سَأَلَتْ نے حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن سے روایت کی انہوں نے انہیں خبر دی کہ انہوں الطَّاعُونِ فَأَحْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللهُ متعلق پوچھا تو نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عَلَى مَنْ يَّشَاءُ فَجَعَلَهُ اللهُ رَحْمَةٌ بتایا کہ یہ ایک عذاب ہے جو اللہ جس پر چاہتا ہے لِلْمُؤْمِنِينَ فَلَيْسَ مِنْ عَبْدِ يَقَعُ الطَّاعُونُ بھیجتا ہے لیکن اللہ نے اس کو مؤمنوں کے لئے رحمت کا موجب بنایا ہے۔کوئی بھی ایسا بندہ نہیں فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا يَعْلَمُ أَنَّهُ جس کو طاعون ہو اور وہ اپنے شہر میں ہی صبر سے لَنْ يُصِيبَهُ إِلَّا مَا كَتَبَهُ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ ٹھہرا رہے۔اسے یہ یقین ہو کہ اسے کوئی تکلیف لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ تَابَعَهُ النَّضْرُ نہیں پہنچے گی مگر وہی جو اللہ نے اس کے لئے عَنْ دَاوُدَ۔أطرافه: ٣٤٧٤ ، ٦٦١٩ - مقدر کر دی تو ضرور اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ ایک شہید کو ثواب ملتا ہے۔(حبان بن ہلال کی طرح) نفر ( بن جمیل) نے بھی داؤد سے اس حدیث کو روایت کیا۔يح :۔أَجْرُ الصَّابِر عَلَى الطَّاعُونِ: طاعون میں صبر کرنے والے کا ثواب۔طاعون کے بارے میں دو اصول ہیں (1) کسی علاقے میں طاعون کے پھوٹنے کا قبل از وقت علم ہو جائے ( پیشگوئی وغیرہ سے ) تو اس علاقہ سے باہر چلے جانا چاہیے تا کہ اس سے بچا جا سکے۔(۲) اگر کسی علاقہ میں طاعون آگئی ہو اور پھیل گئی ہو تو اس علاقہ کے لوگوں کو وہاں سے نکل کر دوسرے علاقوں میں نہیں جانا چاہیئے ورنہ وہ دوسرے علاقوں میں اس وبا کے پھیلانے کا باعث بنیں گے جو کہ معاشرتی زندگی کے لیے نقصان دہ ہے۔جو لوگ طاعون کی وبا کی زد میں آچکے ہوں تو جہاں تک دعا اور دوا کا تعلق ہے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے کہ طاعون کے حملہ سے محفوظ رہا جاسکے لیکن اگر کوئی دوا اور علاج وغیرہ کارگر نہ ہو تو پھر خدا کی تقدیر پر راضی برضا ہوتے ہوئے صبر کرنا چاہیے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون سے مرنے والے کو بھی شہید قرار دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک قانون کا گواہ بن جاتا ہے لیکن اگر کسی علاقہ میں طاعون خدا تعالیٰ کا عذاب بن کر آئے تو پھر توبہ استغفار اور عذاب الہی کے اسباب کو سامنے رکھ کر خدا تعالیٰ کے حضور جھکنا چاہیئے۔قومی عذاب کی صورت میں بعض اوقات ایسے لوگ بھی اس عذاب کا شکار بن 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ أخبرتنا ہے۔(فتح الباری جزء اصفحہ ۲۳۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔