صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 134 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 134

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۳ ۷۶ - كتاب الطب قانون کی طرف جا رہا ہوں۔ پس تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں بھاگ رہا ہوں میں صرف ایک قانون سے اُس کے دوسرے قانون کی طرف جا رہا ہوں۔ پس حضرت عمرؓ نے بھی قضاء اور قدر میں فرق کیا ہے اور مفردات والے لکھتے ہیں کہ حضرت عمر کے اس قول کا مفہوم یہی تھا۔ کہ اِنَّ الْقَدْرَ مَا لَمْ يَكُنْ قَضَاء فَمَرْجُو أَنْ يَدْفَعَهُ اللهُ یعنی جب تک قدر قضاء کا رنگ اختیار نہ کرلے اُس وقت تک امید ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے ٹلا دے۔ گویا آپ نے بتایا کہ چونکہ میں ابھی اس ملک میں داخل نہیں ہوا اور خدا تعالیٰ نے ایک دوسرا قانون بھی بنایا ہو ا ہے کہ جو لوگ طاعون زدہ مقام سے ادھر اُدھر بھاگ جاتے ہیں وہ بچ جاتے ہیں۔ اس لیے میں اُسی کے ایک دوسرے قانون سے فائدہ اُٹھا رہا ہوں ۔ فَإِذَا قَضَى فَلَا مُنافِعُ لَهُ لیکن جب وہ فیصلہ کر دے تو پھر اُس کے فیصلہ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ مریم زیر آیت وَكَانَ اَمْرًا مَقْضِيًّا، جلد ۵ صفحه ۱۷۱،۱۷۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: عام لوگوں کا خیال ہے کہ دبا سے بھاگنا نہ چاہیئے یہ لوگ غلطی کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر وبا کی ابتدا ہوئی ہو تو بھاگ جانا چاہیے اور اگر کثرت سے ہو تو پھر نہیں بھاگنا چاہیئے جس جگہ دیا ابھی شروع نہیں ہوئی تب تلک اس حصہ والے اس کے اثر سے محفوظ ہوتے ہیں اور ان کا اختیار ہوتا ہے کہ اس سے الگ ہو جاویں اور توبہ اور استغفار سے کام لیویں۔“ لملفوظات، جلد ۳ صفحه ۳۰۲،۳۰۱) بَاب ۳۱: أَجْرُ الصَّابِرِ عَلَى الطَّاعُونِ طاعون میں صبر کرنے والے کا ثواب ٥٧٣٤ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ۵۷۳۴: اسحاق بن راہویہ ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ حَدَّثَنَا کہ حبان (بن ہلال) نے ہمیں خبر دی۔ داؤد بن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ابی فرات نے ہم سے بیان کیا۔ عبد اللہ بن بریدہ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے یحییٰ بن یعمر سے، يحي