صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 133
صحیح البخاری جلد ۱۴ شَهِيدٌ۔۱۳۳ ٧٦ - كتاب الطب فرمایا: جو پیٹ کی بیماری سے مر جائے وہ بھی شہید أطرافه: ۶۰۳، ۷۲۰، ۲۸۲۹- ہے اور جو طاعون سے مرجائے وہ بھی شہید ہے۔ریح : مَايُذْكُرْ فِي الطَّاعُونِ: طاعون کے تعلق جوبیان کیا جاتا ہے۔زیر باب روایت نمبر ۵۷۲۹ کا فی مضمون بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رم ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب شام تشریف لے گئے اور وہاں طاعون پڑ گئی۔جو طاعون عمو اس کے نام سے مشہور ہے اور حضرت ابو عبیدہ اور اسلامی لشکر نے آپ کا استقبال کیا تو اس وقت صحابہ نے مشورہ دیا کہ چونکہ اس وقت علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے اس لئے آپ کو واپس تشریف لے جانا چاہیئے۔حضرت عمر نے ان کے مشورہ کو قبول کر کے فیصلہ کر لیا کہ آپ واپس لوٹ جائیں گے۔حضرت ابو عبیدہ ظاہر پر بڑا اصرار کرنے والے تھے انہیں جب اس فیصلہ کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ آتَفِرُّ مِنَ الْقَضَاءِ کیا آپ قضا الہی سے بھاگ رہے ہیں ؟ حضرت عمر نے کہا أَفِرُّ مِنْ قَضَاءِ اللهِ الَی قَدَدِ اللہ میں اللہ تعالیٰ کی قضاء سے اس کی قدر کی طرف بھاگ رہا ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فیصلہ ہے اور ایک عام فیصلہ۔یہ دونوں فیصلے اسی کے ہیں کسی اور کے نہیں۔پس میں اس کے فیصلہ سے بھاگ نہیں رہا بلکہ اس کے ایک فیصلہ سے اس کے دوسرے فیصلہ کی طرف جا رہا ہوں۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کو جب طاعون کی خبر ملی اور آپ نے مشورہ کے لئے لوگوں کو اکٹھا کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ شام میں تو پہلے بھی طاعون پڑا کرتی ہے پھر لوگ ایسے موقعہ پر کیا کیا کرتے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ جب طاعون پھیلتی ہے تو لوگ بھاگ کر ادھر ادھر چلے جاتے ہیں اور طاعون کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔اسی مشورہ کی طرف آپ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خد اتعالیٰ نے ایک عام قانون بھی بنایا ہوا ہے کہ جو شخص طاعون کے مقام سے بھاگ کر ادھر ادھر کھلی ہوا میں چلا جائے وہ بچ جاتا ہے۔پس جبکہ یہ قانون بھی خدا تعالیٰ کا ہی بنایا ہوا ہے۔تو میں اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا بلکہ اس کی قضاء سے قدر کی طرف لوٹ رہا ہوں۔یعنی خدا تعالیٰ کے خاص قانون کے مقابلہ میں اس کے عام