صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 131 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 131

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۶ - كتاب الطب رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ جو ایسی وادی میں چلے گئے ہوں کہ جس کے دو رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللهِ قَالَ فَجَاءَ کنارے ہیں۔ان میں سے ایک کنارہ تو سرسبز ہے عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيّبا اور دوسراخشک۔کیا یہ نہیں ہے کہ اگر تم سرسبز میں فِي بَعْضٍ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي چراؤ تو تم اللہ کی تقدیر سے ہی ان کو چراؤ گے ؟ اور فِي هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ اگر تم خشک میں چمر او تو بھی اللہ کی تقدیر سے ہی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ان کو چراؤ گے۔حضرت ابن عباس کہتے تھے کہ اتنے میں حضرت عبد الرحمن بن عوف ” آئے اور وہ سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضِ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ اپنے کسی کام کی وجہ سے غیر حاضر تھے وہ کہنے وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضِ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا لگے : مجھے اس کے متعلق ایک بات معلوم ہے جو تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ ثُمَّ انْصَرَفَ۔أطرافه: ٥٧٣٠، ٦٩٧٣- میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، آپ فرماتے تھے : جب تم سنو کہ وہ کسی ملک میں ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر کسی ملک میں وبا ( پھوٹ ) پڑے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلو۔حضرت ابن عباس کہتے تھے: حضرت عمر نے سن کر اللہ کی حمد بیان کی اور ( مدینہ کو لوٹ گئے۔٥٧٣٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۷۳۰: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے عَبْدِ اللهِ بْن عَامِرٍ أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عبد اللہ بن عامر الشَّامِ فَلَمَّا كَانَ بِسَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ سے روایت کی کہ حضرت عمر شام کی طرف روانہ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ہوئے۔جب سرغ میں پہنچے تو ان کو یہ معلوم ہوا کہ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ و با شام میں پڑی ہوئی ہے اور حضرت عبد الرحمن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضِ بن عوف نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی ا ہم نے فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضِ فرمایا: جب تم سنو کہ یہ کسی ملک میں ہے تو پھر وہاں