صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 123 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 123

صحیح البخاری جلد ۱۴ ٧٦ - كتاب الطب ان کا فعل اس قابل نہ تھا کہ ان کو ایسی سخت سزا دی جاتی۔ان کو ایسی عبرتناک سزا دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اسلام لا کر پھر مرتد ہو گئے تھے اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر سخت غصہ آیا۔واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ عکل کے لوگوں کو یہ سزا اس لیے نہیں دی گئی تھی کہ انہوں نے ارتداد اختیار کیا تھا بلکہ اس سختی کی اصل وجہ ان کے جرائم کی وحشیانہ کیفیت تھی۔مگر حامیان قتل مرتد اس سختی کو ان کے ارتداد کی رف منسوب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تنگ ظرف اور تنگ خیال ملا کی شکل میں پیش کرتے ہیں کہ آپ (نعوذ باللہ ) اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص آپ کے مذہب کو ایک دفعہ قبول کر کے پھر اس کو ترک کر دیے۔اس وجہ سے آپ کا غضب عکل کے لوگوں کے خلاف بھڑ کا اور آپ نے سادہ قتل پر اکتفا نہ کیا بلکہ سخت عذاب دے کر ان کو مارا اور سخت عذاب دینے کی اصل وجہ ان کا ارتداد ہی تھا۔افسوس ہے ان لوگوں پر کہ کس طرح یہ لوگ اپنے نفسانی جذبات کی پیروی کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قابل اعتراض پیرایہ میں پیش کرنے سے باز نہیں آتے۔جس وحشیانہ رنگ میں عکل کے لوگوں نے ان جرائم کا ارتکاب کیا وہ ہر ایک انصاف پسند انسان کے نزدیک ان کو اس عبرتناک سزا کا مستحق بنانے کیلئے کافی سے بھی زیادہ ہے اور اس امر کی ہر گز ضرورت نہیں کہ ان کی سختی کو ان کے ارتداد کی طرف منسوب کیا جائے لیکن حامیان قتل مرتد کو اس سے تسلی نہیں ہوتی تو میں عکل کے لوگوں کے متعلق کچھ مزید جواب ذیل میں درج کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان حوالجات کے بعد لوگوں کی تشفی ہو جائے گی۔ا۔ابو داؤد میں آیا ہے کہ انہوں نے صرف ایک چروائے کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ وہ چر وائے کئی تھے جنہیں قتل کیا گیا۔۲۔مسلم ، ترمذی، نسائی اور دار قطنی میں حضرت انس سے روایت ہے۔انما سمل النبی ﷺ اعين اولئك لانم سملوا اعین الرعاة یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم