صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 124 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 124

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۳۴ ۷۶ - كتاب الطب نے ان لوگوں کی آنکھوں میں اس لیے گرم لوہے کی سلائی پھر وائی تھی کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں سے یہی سلوک کیا تھا اور ان کی آنکھوں میں لوہے کی سلائیاں پھیری تھیں۔ابو داود کے حاشیہ پر بحوالہ لعات لکھا ہے۔انما فعل صلعم قصاصا لانہم كذلك فعلوا بالرعاة فانه قدر وى انهم سملوا اعين الرعاة وقطعوا ايديهم وارجلهم وغرزوا الشوك فى السنتهم واعينهم حتى ماتوا۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ ان سے سلوک کیا وہ قصاص کے طور پر کیا کیونکہ یہ روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری تھیں، ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹا تھا اور ان کی زبانوں اور آنکھوں میں کانٹے گاڑے تھے یہاں تک کہ وہ اس عذاب کو سہتے سہتے مر گئے۔۴۔روح المعانی جلد ۲ صفحہ ۱۴۸ پر لکھا ہے۔وقیل هم العنيون الذين اغاروا على السرح واخذوا يسارا راعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و مثلوا به فقطعو ایدیه ورجليه وغرزوا الشوك فى لسانه و عینیه حتی مات۔کہا گیا ہے کہ وہ عرفی لوگ تھے جنہوں نے چرنے والے اونٹوں پر ڈاکہ مارا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے یار کو پکڑا اور قتل کرنے سے پہلے اس کا مثلہ کیا۔اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹ ڈالے اور اس کی زبان میں اور اس کی دونوں آنکھوں میں کانٹے گاڑے یہاں تک کہ وہ اس تکلیف کی وجہ سے مر گیا۔ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے چار فعل سر زد ہوئے۔ا۔قطع ایدی۔۲۔قطع رجل - سمل اعین -۴- غرز الشوك۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا دیتے وقت تین سزائیں دیں یعنی ہاتھوں کا کاٹنا، پاؤں خا کاٹنا، آنکھوں میں سلائی پھیرنا۔ان کے چوتھے فعل کی سزا نہیں دی گئی یعنی ان کی زبانوں میں کانٹے نہیں گاڑے گئے۔تعجب ہے کہ حامیان قتل مرتد کھڑے تو اس لیے ہوئے تھے کہ ثابت کریں کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے لیکن