صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 122
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۳۲ ٧٦ - كتاب الطب وہ بار بار اس حدیث کو پڑھیں اور مجھے بتائیں کہ ان کو کیوں سزا دی گئی؟ حدیث ہمیں کیا بتلاتی ہے ؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے اس لیے آدمی دوڑائے تھے کہ وہ اسلام سے منحرف ہو گئے تھے اور اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ان کو پکڑ کر انداد کی عبرتناک سزادی جائے تا آئندہ کوئی شخص اسلام قبول کرنے کے بعد ارتداد کا خیال نہ کرے؟ یا اس لیے ان کے پیچھے آدمی بھیجے تھے کہ انہوں نے ایسی شرارت کی کہ اس کو سن کر بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ بیمار تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا۔شیر دار اونٹنیاں دیں کہ وہ ان کا دودھ پیئں مگر وہ ایسے خبیث باطن اور بد معاش تھے کہ انہوں نے اس احسان کا یہ بدلہ دیا کہ جب تندرست ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آدمیوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ گئے۔میں نہیں سمجھ سکتا اس سے بدر کیا شرارت ہو سکتی ہے حیوانوں پر بھی احسان کا اثر ہوتا ہے۔بھیڑیوں اور درندوں پر بھی احسان کرو وہ بھی احسان کا احساس رکھتے ہیں، کتے بھی اپنے محسن کیلئے جان قربان کر دیتے ہیں۔وہ لوگ جن کا حدیث مذکورہ بالا میں ذکر ہے انسانیت کے تمام احساسات سے ہی خالی نہ تھے بلکه درندوں سے بھی بد تر ثابت ہوئے۔انہوں نے نہ صرف ایک انسان کو قتل کیا اور ڈاکہ مارا بلکہ اپنے محسن کا کھلم کھلا مقابلہ کیا اور حاربوا اللہ ورسولہ کا اپنے تیں مصداق ثابت کیا۔اس لیے وہ اس قابل تھے کہ ان کو حسب فحوائے آیت کریم یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور فساد کی غرض سے ملک میں جنگ کی آگ بھڑکانے کیلئے دوڑتے پھرتے ہیں ان کی مناسب سزا یہی ہے کہ ان میں سے ایک ایک کو قتل کیا جائے یا صلیب پر لٹکا کر مارا جائے یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں ملک سے نکال دیا جائے۔اگر یہ سزا ملتی تو ان کے لیے دنیا میں رسوائی کا موجب ہوتی اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔قتل کی سزا ایک عبرتناک رنگ میں دی جاتی مگر حامیان قتل مرتد کی رائے ہے کہ