صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 121 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 121

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۲۱ ۷۶ - كتاب الطب وَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعِ لگے : اے اللہ کے نبی ! ہم مال مویشی والے لوگ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ ريف وَاسْتَوْخَمُواْ ہیں اور کھیتی باڑی والے نہ ہیں اور انہوں نے مدینہ الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّی کی آب و ہوا کو نا موافق پایا تو رسول اللہ صلی لی ہم نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِرَاعٍ وَأَمَرَهُمْ ان کے لئے حکم دیا کہ ان کو چند اونٹ اور ایک أَنْ يَخْرُجُوا فِيهِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا چرواہا دے دیا جائے اور ان سے فرمایا کہ وہ ان کو وَأَبْوَالِهَا۔فَانْطَلَقُوا حَتَّى كَانُوا نَاحِيَةَ لے کر باہر چلے جائیں اور وہاں ان کے دودھ اور الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا ان کے پیشاب پئیں۔وہ چلے گئے یہاں تک کہ جب حرہ کے کنارے پر پہنچے تو مسلمان ہونے کے رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعد کا فر ہو گئے اور رسول اللہ صلی ال نیم کے چرواہے وَاسْتَاقُوا الدَّوْدَ فَبَلَغَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ کو مار ڈالا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔یہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ خبرتى سلیم کو پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے وَأَمَرَ بِهِمْ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا تعاقب کرنے والوں کو بھیجا اور ان کے متعلق حکم أَيْدِيَهُمْ وَتُرِكُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى دیا اور (ان کے جرم کے بدلے) ان کی آنکھوں میں انہوں نے گرم سلائی پھیری اور ان کے ہاتھوں کو کاٹ ڈالا اور وہ حرہ کے درمیان اپنے مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ۔حال پر چھوڑ دیئے گئے یہاں تک کہ وہ اسی طرح مرگئے۔أطرافه ۲۳۳، ۱۵۰۱ ،۳۰۱۸ ، ۱۹۲ ٤۱۹۳، ٤٦١٠، ٥٦٨٥، ٥٦٨٦، ٦٨٠٢، ٦٨٠٣، -٦٨٠٤ ٦٨٠٥، ٦٨٩٩ تشریح: ہیں: مَنْ خَرَجَ مِنْ أَرْضِ لَا تُلا يمهُ : جو ایسے ملک سے نکل جائے جو اسے موافق نہ ہو۔حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ اس واقعہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ”اب میں ناظرین کے آگے اس حدیث کے الفاظ رکھتا ہوں اور انہی سے انصاف چاہتا ہوں۔وہ اس حدیث کے الفاظ پڑھیں اور بتائیں کہ یہاں جن لوگوں کا ذکر ہے کیا ان سے صرف ارتداد کا جرم سرزد ہوا تھا یا انہوں نے کچھ اور بھی کیا تھا؟