صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 120 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 120

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۲۰ ۷۶ - كتاب الطب اور یہ اس لیے کہ تا دوسرے عالم پر گواہ ہوں اور جزا و سزا کے مسئلے کی حقیقت پر دلیل ہوں اور کفارہ جیسے لغو مسئلہ کی تردید کریں۔مثلاً جذام ہی کو دیکھو کہ اعضاء گر گئے ہیں اور رقیق مادہ اعضاء سے جاری ہے۔آواز بیٹھ گئی ہے۔ایک تو یہ بجائے خود جہنم ہے پھر لوگ نفرت کرتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں۔عزیز سے عزیز بیوی فرزند ماں باپ تک کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔بعض اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں بعض اور خطرناک امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔پتھریاں ہو جاتی ہیں اور پیٹ میں رسولیاں ہو جاتی ہیں۔یہ ساری بلائیں اس لیے انسان پر آتی ہیں کہ وہ خدا سے دور ہو کر زندگی بسر کرتا ہے اور اس کے حضور شوخی اور گستاخی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کی عزت اور پر واہ نہیں کرتا اس وقت ایک جہنم پیدا ہو جاتا ہے۔اب پھر میں اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے جہنم کے لیے اکثر انسانوں، جنوں کو پیدا کیا ہے اور پھر فرمایا کہ وہ جہنم انہوں نے خود ہی بنالیا ہے ان کو جنت کی طرف بلایا جاتا ہے۔پاک دل پاکیزگی سے باتیں سنتا ہے اور ناپاک خیال انسان اپنی کو رانہ عقل پر عمل کر لیتا ہے پس آخرت کا جہنم بھی ہو گا اور دنیا کے جہنم سے بھی مخلصی اور رہائی نہ ہوگی کیونکہ دنیا کا جہنم تو اس جہنم کے لیے بطور دلیل اور ثبوت کے ہے۔“(ملفوظات، جلد اول صفحہ ۳۷۲) بَاب ۲۹: مَنْ خَرَجَ مِنْ أَرْضِ لَا تُلَايِمُهُ جو ایسے ملک سے نکل جائے جو اسے موافق نہ ہو ٥٧٢٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ ۵۷۲۷ : عبد الا علی بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا يزيد بن زُریع نے ہمیں بتایا کہ سعید بن ابی عروبہ ) سَعِيدٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ نے ہم سے بیان کیا، قتادہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَاسًا أَوْ رِجَالًا مِنْ عُكْلِ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ کچھ لوگ یا کہا کچھ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى مرد شکل اور عرینہ قبیلے کے رسول اللہ صلی الم کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ پاس آئے اور اسلام کا زبان سے اقرار کیا اور کہنے