صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 119 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 119

صحیح البخاری جلد ۱۴ 119 ٧٦ - كتاب الطب أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے خبر دی انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ فَيْح حضرت عائشہ سے، حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ۔علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا: بخار بھی طرفه: ٣٢٦٣۔جہنم کی بھاپ ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔٥٧٢٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۷۲۶ مسدد نے ہمیں بتایا کہ ابو الاحوص نے أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ ہم سے بیان کیا۔سعید بن مسروق نے ہمیں بتایا۔مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ سعید نے عبایہ بن رفاعہ سے، عبایہ نے اپنے دادا جَدِهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ حضرت رافع بن خدیج سے روایت کی انہوں نے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ الْحُمَّى مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا فرماتے تھے کہ بخار بھی جہنم کی بھاپ ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔بِالْمَاءِ۔طرفه: ٣٢٦٢- ح : الحُمَّى مِن فَيْحِ جَهَنَّمَ : بخار بھی جنم کی بھاپ ہے۔بخار کو جہنم کا جھونکا قرار دینے سے ایک مراد یہ ہے کہ جس طرح دنیوی نعمتیں اخروی نعمتوں کا ایک استعارہ ہے اسی طرح دنیوی تکالیف اخروی تکالیف کا ایک استعارہ اور تمثیل ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن کو بخار کی گرمی میں جو جلنا پڑتا ہے یعنی ۱۰۴، ۱۰۵ یا ۰۶ ا کا بخار ہو جاتا ہے اس کو جہنم کا حصہ یہیں مل جاتا ہے اور اگلی زندگی کی دوزخ کی آگ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔غرض ایک صاحب فراست مومن آدمی تو یہی خواہش کرے گا کہ اگر میری اپنی سستیوں اور غفلتوں اور کو تاہیوں کی وجہ سے جہنم کی آگ کے جھونکے میرے مقدر میں ہوں تو اے خدا! وہ یہیں مجھے مل جائیں وہاں جا کر نہ ملیں۔(خطبات ناصر، خطبہ جمعه فرموده ۵ نومبر ۱۹۷۱، جلد ۳ صفحه ۴۸۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”حدیث شریف سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آپ بھی حرارت جہنم ہی ہے ، امراض اور مصائب جو مختلف قسم کے انسان کو لاحق حال ہوتے ہیں یہ بھی جہنم ہی کا نمونہ ہے