صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 114
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۱۴ ۷۶ - كتاب الطب أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور حضرت انس بن نضر دونوں نے ان کو داغ دیا لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ اور حضرت ابو طلحہ نے ان کو اپنے ہاتھ سے داغا۔ الْحُمَةِ وَالْأُذُنِ۔ قَالَ أَنَسٌ كُوِيتُ مِنْ اور عباد بن منصور نے ایو منصور نے ایوب سے روایت ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ہوئے کہا۔ ایوب نے ابو قلابہ سے، ابو قلابہ نے کرتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ حضرت انس بن مالک سے نقل کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھر والوں وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو کو جو انصار میں سے تھے اجازت دی کہ وہ سانپ طَلْحَةَ كَوَانِي۔ بچھو کے کاٹنے اور کان کی درد کی وجہ سے دم کروا لیا کریں۔ حضرت انس نے کہا: مجھے ذات الجنب کی بیماری کی وجہ سے داغ لگایا گیا تھا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے اور حضرت ابو طلحہ اور حضرت انس بن نضر اور حضرت زید ثابت مجھے دیکھ رہے تھے اور حضرت ابو طلحہ بن نے مجھ کو داغا۔ تشريح : ذَاتُ الجَنبِ: ذات الجنب اس سے عموما نمونیا (Pneumonia) مراد لیا جاتا ہے۔ علامہ ابن حجر نے وضاحت کرتے ہوئے اس کی دو اقسام بیان کی ہیں۔ (۱) وہ ورم ہے جو پسلیوں کی اندرونی جھلی میں ہو جاتا ہے اسے ذات الجنب الحقیقی کہتے ہیں۔ اطباء نے اس سے ظاہر ہونے والی علامات میں بخار، کھانسی، (سینے میں) دباؤ، سانس میں تنگی اور نبض کی تیزی کا ذکر کیا ہے۔ خوفزدہ کر دینے والی امراض میں سے یہ مرض دل اور جگر کے درمیان پیدا ہونے والی بدترین بیماری ہے۔ (۲) ایسا درد ہے جو پہلوؤں، سینے اور پسلیوں کے عضلات اور پٹھوں میں ریاح غلیظہ رُک جانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ علامہ ابن حجر کے نزدیک معنونہ احادیث میں ذات الجنب کی دوسری قسم مراد ہے کیونکہ قسط یعنی عود ہندی سے ریح غلیظہ کی تکالیف کا علاج کیا جاتا ہے۔ لیکن اُنہوں نے مسجی کا قول نقل کر کے پہلی قسم کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے کہ ذات الجنب الحقیقی اگر بلغمی مادہ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو تو اس میں بھی قسط مفید ہو سکتی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۲۱۲) عَلَامَ تَدْغَرُونَ أَوْلَادَكُمْ بِهَذِهِ الْأَعْلَاقِ: اپنے بچوں کو اس طرح ان کے کوے کو انگلی سے دبا کر کیوں تکلیف دیا کرتی ہو۔