صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 112
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۱۲ ۷۶ - كتاب الطب بَاب ٢٥ : لَا صَفَرَ وَهُوَ دَاءٌ يَأْخُذُ الْبَطْنَ صفر (تو ہم کی) کوئی چیز نہیں بلکہ وہ ایک بیماری ہے جو پیٹ میں ہوتی ہے ٥٧١٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۵۷۱۷ : عبد العزیز بن عبداللہ (اویسی) نے ہم عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ صالح نے صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي انہوں نے نے صالح بن کیسان) سے، صہ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ ابن شہاب سے روایت کی وہ کہتے تھے: ابو سلمہ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ بن عبد الرحمن وغیرہ نے مجھے خبر دی۔ کہ حضرت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ فَقَالَ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ صرف چھونے سے کوئی بیماری ہوتی ہے اور نہ کوئی صفر ہے اور نہ ہی وہ اُلو ہے جو أَعْرَابِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ إِبْلِي مردوں کا جنم لیتا ہے۔ یہ سن کر ایک گنوار بولا۔ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظَّبَاءُ فَيَأْتِي یا رسول اللہ ! پھر کیا وجہ ہے کہ میرے اونٹ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا ریگستان میں ہوتے ہیں ایسے کہ گویا وہ ہرن ہیں۔ فَقَالَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ۔ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ اتنے میں ایک خارش زدہ اونٹ آکر اُن میں گھس عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ۔ جاتا ہے وہ سب کو خارش لگا دیتا ہے۔ آپؐ نے أطرافه: ۵۷۰۷ ، ۵۷۵۷ ، ۵۷۷۰، ۵۷۷۳، ۵۷۷۵ فرمایا: پہلے کو کس نے چھو کر خارش لگائی۔ اس کو زہری نے ابو سلمہ اور سنان بن ابی سنان سے روایت کیا۔ بَاب ٢٦ : ذَاتُ الْجَنْبِ ذات الجنب ٥٧١٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَتَّابُ ۵۷۱۸ : محمد بن يحي بن عبد الله بن خالد بن فارس بْنُ بَشِيرٍ عَنْ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ (ہی) نے ہم سے بیان کیا کہ عتاب بن بشیر نے قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق (بن راشد ) سے ،