صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 110 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 110

11+ صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۶ - كتاب الطب ممکڑ الٹکا ہوتا ہے ، عُذرة کہلاتا ہے۔علامہ عینی نے بیان کیا ہے کہ اس بیماری کے علاج کے لیے ایک رواج یہ تھا کہ عورتیں ایک کپڑا لے کر اُسے مروڑ کر بتی بنا لیتی ہیں اور اسے بچے کے ناک میں ڈال کر تکلیف والے حصہ کو دباتی ہیں۔(عمدة القارى، كتاب الطب، شرح باب السعوط بالقسط الهندی، جزء ۲۱ صفحه (۲۳۹ معنونہ روایت باب ۲۱ میں بھی گزر چکی ہے۔وہاں ذکر ہے کہ علی بن مدینی نے سفیان بن عیینہ سے روایت کے الفاظ أَعْلَقْتُ عَنْهُ کے بارے میں استفسار کیا کہ آیا یہاں أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ تو نہیں؟ سفیان نے وضاحت کرتے ہوئے اپنی انگلی حلق میں ڈال کر بتایا کہ اس طرح بچے کے حلق میں کوے کو اُٹھا کر دبا دیا جاتا تھا۔ان کی مراد یہ تھی کہ کسی اور چیز سے ایسا نہیں کیا جاتا تھا۔اخلاقی کے معنی ہیں حلق میں کوے کو انگلی سے دبانا۔اور الْعُدُرَة کو سُقوط اللَّهَاة یعنی کو اگر جانا بھی کہتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۲۰۷) علامہ نووی کے نزدیک أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ اور أَعْلَقْتُ عَنْهُ ہم معنی الفاظ ہیں اور دونوں طرح ہی استعمال موجود ہے۔(شرح النووی علی مسلم، کتاب السلام، باب التداوي بالعود الهندی، جزء ۱۴ صفحه ۲۰۰) مکرم و محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود الحسن نوری صاحب ایڈ منسٹریٹر طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ لکھتے ہیں: آپ نے گلے کی بیماری Sore throat, Pharyngitis اور Tonsillitis جو بچوں میں عام بیماریاں ہیں ان کے بارہ میں فرمایا: تم اس عود ہندی (یعنی کوٹ) کو استعمال کیا کرو یہ کست ہندی (Hindi (Indian Incense ,Costus, Qust کالے رنگ کی ہے اور ناک میں بھاپ کے ذریعہ لی جاتی ہے یا پھر منہ میں (Lozenges) کی طرح رکھی یا چوسی جاتی ہے۔اور یہ ذات الجنب کا بہترین علاج ہے۔بَابِ ٢٤: دَوَاءُ الْمَبْطُونِ جسے دست آرہے ہوں اس کا علاج Ud Al - ٥٧١٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ۵۷۱۶ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ محمد بن جعفر مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكَّلْ عَنْ أَبِي نے قتادہ سے، قتادہ نے ابو المتوکل سے، ابو المتوکل سَعِيدٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ نے حضرت ابوسعید (خدری) سے روایت کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخِي انہوں نے کہا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا پاس آیا اور کہنے لگا: میرے بھائی کو دست آرہے فَسَقَاهُ فَقَالَ إِنِّي سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ ہیں۔آپ نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔اس نے اس