صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 109 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 109

صحیح البخاری جلد ۱۴ 1+9 ۷۶ - كتاب الطب بَاب ۲۳ : الْعُذْرَةُ کو اگر جانا ٥٧١٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۵۷۱۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے ، زہری عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ نے کہا عبید اللہ بن عبد اللہ نے مجھے خبر دی کہ بِنْتَ مِحْصَنِ الْأَسَدِيَّةَ أَسَدَ خُزَيْمَةً حضرت ام قیس بنت محصن اسد یہ جو خزیمہ قبیلے کی وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُولِ اللَّاتِي اسد شاخ سے تھیں اور وہ ان ابتدائی مہاجر عورتوں بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں سے تھیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور وہ حضرت عکاشہ بن محصن) کی بہن وَهِيَ أُخْتُ عُكَاشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا تھیں انہوں نے ان کو بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بیٹے کو لائیں جس کے بِابْنِ لَهَا قَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُشْرَةِ گلے کا کو اعذرہ بیماری کی وجہ سے انہوں نے دبایا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہو ا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کس لئے عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ اپنے بچوں کے کوؤں کو اس طرح اٹھا کر ان کے عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِي فَإِنَّ فِيهِ حلق کو دباتی ہو تم اس عود ہندی کو استعمال کیا کرو سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُرِيدُ کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے ان میں الْكُسْتَ وَهُوَ الْعُودُ الْهِنْدِيُّ۔وَقَالَ سے ایک ذات الجنب بھی ہے۔آپ کی مراد کست يُونُسُ وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدِ عَنِ الزُّهْرِيِّ سے تھی اور وہی عود ہندی ہے۔اور یونس اور اسحاق عَلَّقَتْ عَلَيْهِ۔أطرافه: ٥٦٩٢، ۵۷۱۳، ۵۷۱۸ بن راشد نے زہری سے روایت کرتے ہوئے عَلَّقَتْ عَلَيْهِ کے الفاظ نقل کئے۔ریح : العُدة کو اگر جانا ان استین نے بیان کیا ہے کہ العمرة حلق سے خون آنے کی ایک تکلیف ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ایک پھنسی ہے جو گرمیوں میں حلق اور ناک کے درمیان بچوں کو نکلتی ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے گلے میں ورم کی وہ جگہ جو منہ کا آخری اور حلق کے شروع کا حصہ ہے جہاں گوشت کا ایک چھوٹا