صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 106 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 106

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۰۶ ۷۶ - كتاب الطب سُفْيَانُ فِي حَنَكِهِ إِنَّمَا يَعْنِي رَفْعَ کہتے تھے : میں نے سفیان سے کہا: معمر تو یوں حَنَكِهِ بِإِصْبَعِهِ وَلَمْ يَقُلْ أَعْلِقُوا عَنْهُ کہتے ہیں: أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ۔ انہوں نے کہا کہ معمر نے یاد نہیں رکھا۔ میں نے زہری کے منہ سے یہی یا د رکھا ہے۔ أَعْلَقْتُ عَنْهُ اور سفیان نے اپنی انگلی شَيْئًا ۔ أطرافه : ٥٦٩٢، ٥٧١٥، ٥٧١٨۔ سے بتایا کہ بچے کے حلق میں کوے کو یوں اٹھا کر دبا دیا جاتا تھا اور سفیان نے اپنی انگلی اس کے حلق میں ڈالی۔ زہری کی صرف یہ مراد ہے کہ سفیان نے اپنی انگلی سے اس کے کوے کو اٹھایا اور یہ نہیں کہا: أَعْلِقُوا عَنْهُ شَيْئًا۔ کہ اُنہوں نے کسی چیز سے اُسے اٹھایا۔ تشریح : اللدود : حلق میں دوا ڈالنا۔ مریض کے منہ میں ایک جانب سے ڈالی جانے والی دوا کو الود کہتے ہیں۔ ( فتح الباری، جزء ۱۰ صفحہ (۲۰۵) مریض طبیعت یا ذائقہ کی خرابی کی وجہ ا خرابی کی وجہ سے بسا اوقات دوائی یا خوراک نہیں لیتا جبکہ دوائی یا خوراک اس کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ اس صورت میں تیمار داروں کو خیال رکھنا چاہیے کہ آیا مریض سے زبر دستی کرنا جائز۔ کرنا جائز ہے یا نہیں۔ وہ مریض جو سب کا مطاع ہو اس کے تیمار داروں کے - لیے ایک مشکل اور ٹھن مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو بطور مریض ٹریٹ کیا جائے یا بطور مطاع۔ اور چونکہ مریض تو مریض ہی ہوتا ہے چاہے وہ نبی اور رسول اور سب کا مطاع ہو اس لیے اس برگزیدہ وجود کی خدمت کرنے والوں اور تیمار داروں کو یہ فیصلہ کرنا کہ اس کا یہ اشارہ بطور مریض ہے یا مطاع۔ اسی صورت حال کا ذکر زیر باب روایت نمبر ۵۷۱۲ میں ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوا پلائی تو آپ اشارہ سے دوا پینے سے انکار کرتے تھے۔ ہم نے خیال کیا کہ جس طرح بعض اوقات مریض دوا پینے سے انکار کرتے ہیں اس طرح آپ بھی انکار فرمارہے ہیں۔ چنانچہ ہم نے آپ کو دوا پلا دی۔ جب آپ کو کچھ افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا : ”کیا میں نے تم لوگوں کو دوا پلانے سے منع نہ کیا تھا؟ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ہم نے خیال کیا کہ آپ کا انکار بھی اسی طرح ہے جس طرح بعض مریض دوا پینے سے انکار کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ”گھر میں جو افراد اس وقت موجود تھے ان سب کو وہ دو اپلاؤ ، سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے۔“ مکرم و محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود الحسن نوری صاحب ایڈ منسٹریٹر طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ لکھتے ہیں: مریض طبیعت یا ذائقہ کی خرابی کی وجہ سے بسا اوقات دوائی یا خوراک نہیں لیتا جبکہ دوائی یا خوراک اس کے لئے انتہائی ضروری ہے اس صورت میں لازم ہے کہ مریض کے انکار یا بے ہوشی کی صورت میں قریبی رشتہ داروں سے مشورہ کے