صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 105 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 105

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۰۵ ۷۶ - كتاب الطب لِلدَّوَاءِ فَقَالَ لَا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ افاقہ ہوا، آپ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں روکا أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَّا الْعَبَّاسَ نہیں تھا کہ میرے منہ میں دوائی نہ ڈالو ؟ ہم نے فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدُكُمْ۔أطرافه ٤٤٥٨، ٦٨٨٦، ٦٨٩٧- کہا کہ مریض تو دوا سے کراہت کرتا ہے۔آپ نے فرمایا: میرے سامنے گھر کے ہر فرد کے منہ میں دوا ڈالی جائے سوائے عباس کے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ شامل نہ تھے۔٥٧١٣ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا :۵۷۱۳ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ قَالَتْ دَخَلْتُ نے زہری سے روایت کی کہ مجھے عبید اللہ بن بِابْنِ لِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عبد اللہ نے خبر دی۔عبید اللہ نے حضرت اُم قیس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ مِنَ ( بنت محصن) سے روایت کی وہ کہتی تھیں : میں اپنے الْعُشْرَةِ فَقَالَ عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ ایک بیٹے کولے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ پاس گئی اور میں نے گلے کے ورم کی وجہ سے اس کے ناک میں بیتی ڈالی ہوئی تھی۔آپ نے الْهِنْدِي فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعَدْرَةِ فرمایا: تم اس بتی سے اپنے بچوں کے حلقوں کو دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو۔اس عود ہندی کو استعمال يُبَيِّنْ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ۔فَسَمِعْتُ کیا کرو اس میں سات علاج ہیں۔ان میں سے الزُّهْرِيَّ يَقُولُ بَيَّنَ لَنَا اثْنَيْنِ وَلَمْ ایک ذات الجنب کا علاج ہے۔خناق کی تکلیف لَنَا خَمْسَةٌ۔قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ میں علاج کے لیے ) ناک میں بھی ڈالی جاتی ہے مَعْمَرًا يَقُولُ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ قَالَ لَمْ اور ذات الجنب میں حلق میں بھی ڈالی جاتی ہے۔يَحْفَظُ إِنَّمَا قَالَ أَعْلَقْتُ أَعْلَقْتُ عَنْهُ (سفیان کہتے تھے: میں نے زہری سے سناوہ کہتے حَفِظْتُهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ وَوَصَفَ تھے: آپ نے ہم سے دو بیماریاں بیان کیں اور ہم سُفْيَانُ الْغُلَامَ يُحَنَّكُ بِالْإِصْبَعِ وَأَدْخَلَ سے پانچ بیماریاں بیان نہیں کیں۔( علی بن مدینی ا۔اس ترجمہ کے لیے دیکھئے عمدۃ القارى، كتاب الطب، شرح باب السعوط بالقسط الهندی، جزء ۲۱ صفحہ ۲۳۹۔