صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 103
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۰۳ ٧٦ - كتاب الطب استعمال کیا ہے۔مشہور مصری ماہر امراض چشم Dr Al-Mutaz al- Marzuqi نے اپنے تجربہ کے بعد لکھا ہے کہ مگرے (Trachoma) ایک عام آنکھوں کی بیماری ہے اور گرم و صحرائی علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے اگر وقت پر اس بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو انسان آہستہ آہستہ بینائی سے محروم ہو جاتا ہے۔Trachoma اندھا پن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔مَن کا پانی نہ صرف ککروں (Trachoma) کی بیماری سے شفا دیتا ہے بلکہ بینائی کو بھی بحال کر دیتا ہے۔یہ نسخہ آج سے ۱۴۰۰ سو سال قبل ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 1 ر ”ایک ایسی چیز سینا کے علاقہ میں پائی جاتی ہے جو شبنم کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے اور دھوپ کی گرمی میں پگھل جاتی ہے اور تیل کا سا اس کا مزہ ہوتا ہے اور سفید رنگ کی ہوتی ہے جس کی ایک قسم کو ہمارے ملک میں شیر خشت کہتے ہیں۔اور دوسری کو ترنجبین اور ہندی میں اسے یورس شرط کڑا یعنی جو انسہ کی شکر کہتے ہیں کیونکہ ہندوستان میں یہ چیز جو انسے کے درخت سے نکالی جاتی ہے۔لاطینی میں اسے مٹا کہتے ہیں اور اس چیز کی ماہیت پوری طرح طبی کتب میں بھی درج ہے اور انسائیکلو پیڈیا برٹینکا میں بھی بیان ہے۔یوروپین سیاحوں نے شہادت دی ہے کہ اب تک اس علاقہ میں من ملتا ہے۔گو وہ شبنم کے ساتھ نہیں گرتا بلکہ ٹیمرکس گیلیگا (Tamarix Gallica) نامی درخت کا رس ہوتا ہے جس کی چھال کو جب ایک کیڑا چھید تا ہے تو اس سے یہ رس ٹپکتا ہے۔بغیر کیڑے کے انسانی طریقوں سے درخت کی چھال میں شگاف کرنے سے بھی یہ رس گر کر جم جاتا ہے۔اور مختلف ممالک میں اس درخت سے مختلف طریقوں سے اس کو جمع کیا جاتا ہے۔سلی اور خراسان کا من مشہور ہے۔ہندوستان میں بھی جو انسہ کے درخت سے وید من بناتے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر ، سور قاطه زیر آیت وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ والسلوى جلد ۵ صفحه ۴۴۶، ۴۴۷ ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جہاں تک مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دشت سیناء میں کھمب ترنجبین اور ایسی ہی اور چیزیں جو جلد تیار ہو جاتی تھیں، پیدا کر دیں جن سے بنی اسرائیل کو بآسانی غذا ملنے لگی۔۔۔(1) Science & Hadees Regarding Truffles & Mushrooms۔Dr shakeel's۔tib-e-nabi-for-you۔com۔2015-2020 ( الكماة) Tib-e-Nabi, Lesson No۔49۔Kamaat