صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 101
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۰۱ ۷۶ - كتاب الطب بِهِ الْحَكَمُ لَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ کرتے ہوئے؟ ہوئے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے کہا: جب حکم نے مجھ سے یہ بیان کیا تو میں نے عبد الملک کی حدیث عَبْدِ الْمَلِكِ۔ أطرافه : ٤٤٧٨، ٤٦٣٩ کو اجنبی نہ سمجھا۔ تشریح : الْمَنْ شِفَاء لِلْعَيْنِ: من یعنی کبھی آنکھ کا علاج ہے۔ امام بخاری نے الْمَنُ شِفَاءٌ لِلْمَعَانِ عنوان باب کو عام رکھا ہے جس میں ہر قسم کے من کو شامل سمجھا جا سکتا ہے۔ اور زیر باب حدیث میں بطور خاص کھمبی کا ذکر کیا ہے۔ باب اور حدیث دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ الْمَنْ يَا الْكَمْأَةُ (می) شفاء للعين ہے۔ علامہ بدر الدین مینی لکھتے ہیں: ووجه گونه شفاء للعين أنه يُربى به الكحل والتوتيا ونحوهما مما يكتحل به فينتفع بذلك، وليس بأن يكتحل به وحده لأَنَّهُ يُؤْذِى العين ويقلبيها ۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحه ۲۴۸) یعنی اس کے آنکھوں کے لیے شفا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے آنکھ کا سرمہ بنایا جاتا ہے جس سے آنکھ کو فائدہ پہنچتا ہے نا ہے لیکن مجرد ( کسی سرمہ وغیرہ کے بغیر ) اس کو آنکھ میں ڈالنا آنکھ کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ اس میں رگڑ پیدا کرتا ہے۔ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِ وَمَاؤُهَا شِفَاء لِلْعَيْنِ بھی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کیلئے شفاء ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: قَالَ الْغَافِقِي فِي الْمُفْرَدَاتِ مَاءُ الْكَمَاةِ أَصْلَحُ الْأُدْوِيَةِ لِلْعَيْنِ إِذَا عُمِنَ بِهِ الْإِثْمِدُ وَاكْتُحِلَ بِهِ فَإِنَّهُ يُقَوِي الْجَفْنَ وَيَزِيدُ الرُّوحَ الْبَاصِرَ حِلَّةً وَقُوَّةً وَيَدْفَعُ عَنْهَا النَّوَازِلَ وَقَالَ النَّوَوِيُّ الصَّوَابُ أَنَّ مَاءَهَا شِفَاءُ لِلْعَيْنِ مُطلَقًا فَيُعْصَرُ مَاؤُهَا وَيُجْعَلُ فِي الْعَيْنِ مِنْهُ قَالَ وَقَدْرَ أَيْتُ أَنَا وَغَيْرِي فِي زَمَانِنَا مَنْ كَانَ عَمِيَ وَذَهَبَ بَصَرُهُ حَقِيقَةٌ فَكُحِلَ عَيْنُهُ بِمَاءِ الْكَمَأَةِ مُجَرَّدًا فَشُفِيَ وَعَادَ إِلَيْهِ بَصَرُهُ ( فتح الباری، جزء ۱۰، صفحه ۲۰۴) غافقی کہتے ہیں: مفردات میں ہے کہ کھمبی کا پانی آنکھوں کی بہترین دوائی ہے جب اسے سرمہ کے ساتھ ملا کر آنکھ میں ڈالا جائے۔ یہ آنکھ کی پتلی کو مضبوط کرتا ہے اور نظر کو تیز اور طاقتور بناتا ہے اور نزول الماء وغیرہ آنکھوں کی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ امام نووی کہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ کھمبی کا پانی آنکھ کے لیے ہر اعتبار سے شفا کا موجب ہے جب اسے نچوڑ کر اس کا پانی آنکھ میں ڈالا جائے۔ کہتے ہیں میں نے اور ہمارے زمانے کے میرے علاوہ کچھ اور لوگوں نے بھی مشاہدہ کیا ہے کہ جو شخص نابینا ہو گیا اور اس کی بینائی فی الواقعہ ختم ہو گئی صرف کھمبی کا پانی اس کی آنکھوں میں ڈالا گیا تو اسے شفا ہو گئی اور اس کی بصارت واپس لوٹ آئی۔ ترندی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے : أَن نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : الكَمْأَةُ جُدَرِيُّ الأَرْضِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِ وَمَاؤُهَا شِفَاءُ لِلْعَيْنِ (سان الترمذى، ابواب الطب، باب ما جاء في الكمأة والعجوة) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض لوگ (اعراب کے تو ہمات کے مطابق) باتیں کر رہے تھے کہ کھمب زمین کی چیچک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس بات کو