صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 99
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۹۹ ٧٦ - كتاب الطب ہوتی ہے چنانچہ جامع ترمذی میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذام کے مریض کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ کھانے کے پیالے میں داخل کیا اور فرمایا کھاؤ اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ پر بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے۔یہ روایت سنن ابن ماجہ کتاب الطب میں بھی بیان ہوئی ہے۔ایک اس قسم کے مریض کے ساتھ محبت کی یہ تعلیم کسی اور مذہبی کتاب میں بیان نہیں ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک اُسوہ کو اپنے اپنے دور میں خلفاء راشدین زندہ کرتے رہے۔چنانچہ حضرت ابو بکر کے دور میں ایک وفد مدینہ آیا اور آپ کی خدمت میں کھانا لایا گیا لوگ نزدیک ہو گئے لیکن ایک آدمی جس کو جذام تھا الگ ہو کر بیٹھ گیا۔آپ نے اس شخص کو فرمایا کہ قریب ہو جاؤ وہ بے چارا قریب ہو گیا۔و آپ نے اس کو فرمایا کھاؤ۔جب وہ کھانے لگا تو آپ برتن میں اسی جگہ سے کھاتے جہاں سے وہ کھا رہا تھا۔کے حضرت عمرؓ کے دور میں ایک صحابی حضرت معیقیب کو یہ تکلیف ہو گئی ایک راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے پاس پانی کا بر تن لایا گیا آپ نے اس میں سے پانی پیا اور پھر حضرت معیقیب" کو پینے کے لیے دیا جب حضرت معیقیب نے پانی پی لیا تو آپ نے اس برتن سے پانی پیا اور آپ اپنے ہونٹ وہیں رکھتے تھے جہاں سے حضرت معیقیب نے پانی پیا تھا۔حضرت عمرؓ کو ان کے علاج کے متعلق بہت فکر رہتی تھی اور آپ اپنے پاس آنے والے مختلف لوگوں سے ان کے علاج کے بارے میں دریافت فرماتے رہتے۔آپ کے پاس یمن سے ایک وفد آیا تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تمہارے پاس اس مرد صالح کے لیے کوئی علاج ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا علاج تو نہیں جو کہ اس کو ختم کر دے لیکن ایسا علاج ہے جو کہ اس کو بڑھنے سے روک دے گا۔آپ نے فرمایا کہ اس کا رک جانا بھی بڑی عافیت ہے۔تب انہوں نے حنظل لے کر حضرت معیقیب کے جسم پر خوب ملے۔اس کے بعد (جامع ترمذی، ابواب الاطعمة باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ المَجْذُومِ) (كنز العمال،حرف الطاء، كتاب الطب من قسم الافعال الامراض، جزء ۱۰ صفحه ۹۳، ۹۴)