صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 98
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۹۸ ٧٦ كتاب الطب اس بیماری میں اعضاء ضائع ہوئے ہوتے ہیں اور جسم پر بد نما داغ نمودار ہوتے ہیں اور اگر کوئی ایسے مریض کی طرف مسلسل دیکھے جائے تو یہ بات مریض کے لیے خفت کا باعث ہو سکتی ہے۔اس طرح ایسے مریض کے جذبات کا خیال رکھا گیا ہے۔اب بائیبل میں تو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ ایسے مریض کو باہر نکال دو اور اس کے برعکس حدیث میں صرف وہ ہدایت دی گئی ہے جو کہ مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے۔مناسب یہی ہوتا ہے کہ ایسی جگہ پر جہاں پر لوگوں کا ہجوم ہوتا ہو وہاں ایسا مریض زیادہ دیر کے لیے نہ رکے تا کہ یہ مرض دوسروں کو منتقل نہ ہو۔چنانچہ ثقیف کے وفد میں ایک شخص مجذوم بھی تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھجوایا کہ ہم نے تمہاری بیعت قبول کر لی اب تم واپس چلے جاؤ۔ابن جریر میں روایت ہے کہ یہ شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر تھا جب آپ نے اس کو یہ پیغام بھجوایا تھا۔کے یہ بات ظاہر ہے کہ مسجد نبوی ایک ایسی جگہ تھی جہاں پر لوگوں کی کثرت سے آمد ورفت ہوتی تھی اور وہاں پر ایسے مریض کے موجود رہنے سے دوسروں کو یہ بیماری منتقل ہونے کا خدشہ ہو سکتا تھا۔حضرت عمر ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو کہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھی آپ نے اس سے فرمایا کہ اے اللہ کی بندی لوگوں کو تکلیف نہ پہنچا اور اپنے گھر میں بیٹھ۔سے جذام کا مریض اور اسوۂ حسنہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے اپنا ایسا حسین اُسوہ پیش فرمایا کہ ایسا مریض ناپاک نہیں ہوتا۔اس کا دل رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے اور اس سے محبت کا سلوک کرناضروری ہے جس کی ہمیں کہیں اور مثال نہیں ملتی اور یہ پہلو بھی مد نظر رہنا ضروری ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت (سنن ابن ماجه، کتاب الطب، باب الجذام ) (تهذيب الآثار لابن جریر الطبری، مسند علی بن ابی طالب، جزء۳ صفحه ۱۸) (کنز العمال،حرف الطاء، كتاب الطب، الأمراض الجذام، جزء ۱۰ صفحه ۹۶)