صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 97 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 97

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۹۷ ٧٦ - كتاب الطب کر دیا جائے۔یہ بالکل سائنسی حقائق اور عقل کے خلاف ہے کیونکہ جذام کے جراثیم کسی بھی صورت میں کپڑوں میں یا گھر کی دیواروں میں پرورش نہیں پاسکتے۔اس حصہ کو سوائے تو ہمات کے کسی اور چیز کا نام نہیں دیا جا سکتا۔مندرجہ بالا قوانین کی تشریح طالمود میں کی گئی ہے اور اس میں بھی جذام کے مریض سے ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا ہے۔یہانتک کہ اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ اگر جذام کے مریض کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا یا دائیں پاؤں کا انگوٹھا یا دایاں کان ضائع ہو جائے تو ایسا مریض خواہ اس کا مرض ختم ہی کیوں نہ ہو جائے کبھی پاک نہیں ہو گا۔(Babylonian Talmud: Tractate Sanherdin Folio 88) انجیل میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ حضرت عیسی کی دعا سے جذام کے مریض کو شفا ملی لیکن اس کے ساتھ یہ ذکر ملتا ہے کہ شفا پانے کے بعد حضرت عیسی نے اُسے تاکید کی کہ کاہن کے پاس جا کر توریت کی ہدایت کے مطابق اپنے آپ کو پاک کراؤ۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت بھی یہ احکامات منسوخ نہیں کیے گئے تھے۔(متی باب ۸ ، لوقا باب ۵ ویدوں میں سے اتھر وید میں جذام سے شفا پانے کے لیے بھیجن درج ہیں۔23,4 Atharva Veda: Hymn) جذام کے متعلق اسلامی تعلیم حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جذام کی بیماری والے سے اس طرح بھا گو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔لے لیکن اس کی حد بھی بیان فرمائی ہے جیسا کہ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ جذام کے مریض کی طرف مسلسل ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھو۔اور جب تم اس سے بات کرو تو تمہارے اور اس کے درمیان ایک نیزہ جتنا فاصلہ ہو۔اب ایک نیزہ جتنا فاصلہ سائنسی طور پر بالکل مناسب ہے کیونکہ یہ بیماری قریبی تعلق سے پھیلتی ہے اور سلسل ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے اس لیے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ (صحیح بخاری، کتاب الطب، باب الجذام ) ۲ (مسند احمد بن حنبل، مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ، جزء اول صفحہ ۷۸