صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 96
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۹۶ ٧٦ - كتاب الطب کہے۔یہ تو بالکل ناقابل فہم بات ہے۔اس سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ اس کی تذلیل کی جائے اور اس کی مشکلات میں بلا مقصد اضافہ کیا جائے سوائے ایک ستم رسیدہ کے جذبات مجروح کرنے کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ جذام سے دوسرے لوگوں کو بچاناضروری ہے۔لیکن اس احتیاط کے لیے اس کا آبادی سے بالکل باہر نکال دینا ضروری نہیں ہوتا۔یہ مرض بہت قریبی تعلق رکھنے پر منتقل ہوتا ہے اور اس سے بچانے کے لیے آبادی سے باہر نکال دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ایسے اقدامات سے صرف اس کے ساتھ امتیازی سلوک میں اضافہ ہی ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ بائیبل میں جذام کی جو علامات بیان کی گئی ہیں وہ صحیح نہیں ہیں اور اس سے یہ امکان بھی موجود ہے کہ جس کو جذام ہو اسے جذام سے پاک قرار دے دیا جائے اور جسے جذام نہیں ہے بلکہ کوئی اور مرض ہے جس سے باقی لوگوں کو کوئی ایسا خاص خطرہ نہیں اسے مجزوم قرار دے دیا جائے۔مثلاً احبار کے باب ۱۳ میں لکھا ہے کہ اگر سات روز میں جسم پر نمودار ہونے والا داغ جسم پر پھیل جائے تو کا ہن ایسے مریض کو مجزوم قرار دے لیکن اگر یہ داغ سات روز میں تیزی سے نہ پھیلے تو اسے پاک قرار دیا جائے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جذام کا داغ بہت آہستگی سے پھیلتا ما ہے اور بعض دوسرے امراض مثلاً جسم پر fungus کے داغ بہت تیزی سے پچھے ہیں۔بائیبل میں بیان شدہ علامات کی اگر پیروی کی جائے تو اس بات کا بہت زیادہ احتمال ہے کہ Psoriasis اور برص جیسے امراض کے داغ کو جو کہ متعدی امراض بھی نہیں ہیں جذام قرار دے کر ان سے یہ ظالمانہ سلوک کیا جائے یا جسم پر نمودار ہونے والی Fungus کو جو کوئی ایسی خطرناک بیماری بھی نہیں جذام قرار دے دیا جائے۔اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ بائیبل کی کتاب احبار کے باب ۱۳ اور ۱۴ میں ایسی جذام کا بھی ذکر ہے جو کہ کپڑوں کو اور گھروں کی دیواروں کو بھی ہو جاتی ہے اور اس کی علامات درج کر کے یہ تلقین کی گئی ہے کہ ایسے کپڑے کو جلا دیا جائے اور اگر گھر کی دیواروں میں جذام کی علامات ظاہر ہوں اور بڑھتی جائیں تو ایسے گھر کو منہدم