صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 95
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۹۵ ۷۶ - كتاب الطب کو بائیل میں بیان کردہ معیار پر پرکھ کر دیکھے۔اگر وہ ان علامات کو جذام کی علامات کے مطابق پائے تو اس بیچارے مریض کے ساتھ بائبل کے الفاظ میں یہ سلوک کیا جائے گا۔اور جو کوڑھی اس بلا میں مبتلا ہو اس کے کپڑے پھٹے اور اس کے سر کے بال بکھرے رہیں۔اور وہ اپنے اوپر کے ہونٹ کو ڈھانکے اور چلا چلا کر کہے ناپاک ناپاک۔جتنے دنوں وہ اس بلا میں مبتلا رہے وہ ناپاک رہے گا اور وہ ہے بھی ناپاک۔پس وہ اکیلا رہا کرے اس کا مکان لشکر گاہ سے باہر ہو۔۔ایسے مریض کو جسے کوئی متعدی مرض لاحق ہو۔دوسروں کو احتیاط تو کرنی پڑتی ہے تاکہ یہ مرض دوسرے کو لگ کر اور پھیل کر معاشرے میں مزید تکالیف کا باعث نہ بنے۔اور جذام جیسے موذی مرض کے معاملے میں یہ احتیاط اور بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے اور یہ احتیاط ضروری بھی ہوتی ہے۔لیکن بائبل میں مذکور ہدایات کے بارے میں کچھ امور قابل غور ہیں۔ایک تو یہ صرف احتیاط کی تعلیم نہیں ہے کہ یہ مرض پھیل نہ جائے بلکہ ایسے مریض کو بار بار نا پاک کا نام دیا گیا ہے اور بائبل کے ان دو ابواب میں جن میں جذام کے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔بیچارے ایسے مریض کو بار بار ناپاک کا نام دے کر لوگوں کو ایسے مریض سے ہمدردی کی بجائے نفرت دلائی گئی ہے۔بیماری تو بیماری ہے۔ایسی قابل رحم حالت میں اس سے نفرت دلانے کا ایک ہی نتیجہ نکل سکتا تھا۔اور وہ یہ کہ لوگ خواہ مخواہ ایسے مریض کو بلا جواز نفرت اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنائیں۔اور تاریخ میں جذام کے مریضوں کے ساتھ یہ ظلم بکثرت کیا گیا ہے۔بلکہ اب تک کیا جارہا ہے۔چنانچہ چین میں اب تک جذام کے ان مریضوں کو جن کا علاج ہو چکا ہوتا ہے اور اب ان کی بیماری ختم ہو چکی ہوتی ہے کوئی اپنے گاؤں میں رکھنے کو تیار نہیں ہوتا اور ان کے لیے علیحدہ گاؤں آباد کیے جاتے ہیں۔دوسرے یہ تو علیحدہ بات ہے کہ ایسی احتیاط کی جائے کہ مرض دوسرے کو منتقل نہ ہو۔خاص طور پر اس دور میں جبکہ اس مرض کا علاج دریافت نہیں ہوا تھا لیکن بائیبل میں مذکور ہدایات میں یہ تاکید کہ ایسے مریض کے کپڑے پھٹے رہیں اور بال بکھرے رہیں اور وہ بیچارہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ کو چیخ چیخ کرنا پاک اخبار باب ۱۳، آیت ۴۶،۴۵)