صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 94
صحیح البخاری جلد ۱۴ جذام اور اس کے اثرات: ۹۴ ۷۶ - كتاب الطب فضل عمر ہسپتال ربوہ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ محترم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب لکھتے ہیں: ”جذام میں اکثر جلد پر سفید داغ نمودار ہوتا ہے یا یہ داغ سرخی مائل بھی ہو سکتا ہے۔متاثرہ حصہ میں احساس ختم ہو جاتا ہے اور یہ سُن ہو جاتا ہے۔متاثرہ حصہ کو جانے والی Nerve بڑی ہو کر نظر آسکتی ہے یہ داغ ایک یا ایک سے زائد بھی ہو سکتے ہیں۔متاثرہ حصہ پر بال جھڑ جاتے ہیں۔چونکہ متاثرہ حصہ سُن ہو جاتا ہے اس لیے اس میں درد کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور اسے نقصان پہنچتا رہتا ہے اور اس سے مختلف اعضاء ختم ہو سکتے ہیں۔اور جذام کا مریض اپنے اعضاء سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔اور معذور ہو جاتا ہے۔اور اس کا جسم بد نما بن جاتا ہے۔یہ متعدی ہے یعنی ایک مریض سے دوسرے مریض کو منتقل ہو سکتا ہے۔لیکن یا تو یہ بہت قریب رہنے والے اور بر اور است جسمانی تعلق رکھنے والے کو منتقل ہو تا ہے یا پھر چھینک یا کھانسی کے ساتھ برآمد ہونے والے چھوٹے چھوٹے قطروں کے ذریعہ دوسرے شخص کو منتقل ہوتا ہے۔زمانہ قدیم سے اس بیماری نے تاریخ انسانیت میں کتنے ہی المیوں کو جنم دیا ہے۔بھارت میں ۲۰۰۰ ہزار سال پرانا ڈھانچہ دریافت ہوا جس کی ہڈیوں میں جذام کے آثار پائے جاتے ہیں۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس قدیم دور سے یہ بیماری اپنی تباہ کاری پھیلارہی تھی۔اس موقعہ پر نہایت مناسب معلوم ہوتا ہے کہ متعدی بیماری سے متاثرہ افراد کے ساتھ انسانی رویوں اور احتیاط کے ساتھ ساتھ مریض کی عزت نفس اور اس سے روار کھے جانے والے سلوک کو اسلامی تعلیم ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ، خلفاء راشدین کے اُسوہ اور اس کے مقابل بائیکل کی تعلیم کا مختصر موازنہ بھی پیش کیا جائے۔جذام اور بائیل: محترم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب لکھتے ہیں: بائیل میں بھی اس بیماری کے متعلق بہت سے تفصیلی احکامات پائے جاتے ہیں اور اس کی علامات بیان کی گئی ہیں۔یہ احکامات بائبل کی کتاب احبار کے باب ۱۳ اور ۱۴ میں بیان کیے گئے ہیں۔ان احکامات کے مطابق اگر کسی شخص کو جذام ہونے کا شبہ ہو تو وہ کا ہن کے پاس جائے اور اگر وہ اس مریض میں پائی جانے والی علامات