صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 93 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 93

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۹۳ ٧٦ - كتاب الطب ریح : الجمداد : جذام کے متعلق شارحین لکھتے ہیں هُوَ عِلَّةٌ رَدِينَةٌ تَعْدُتُ مِنَ انْتِهَارِ الْجِرَّةِ السَّوْدَاءِ في الْبَدَنِ كُلِهِ فَتُفْسِدُ مِزَاجُ الْأَعْضَاءِ وَرُكَما أَفَسَدَ فِي آخِرِهِ إِيصَالَهَا حَتَّى يَتَأَكُلَ قَالَ ابن سيدة سهى بِذَلِكَ لِتَجَلُّمِ الْأَصَابِع وَتَعَظعِهَا ( فتح البارى جزء ۱۰ صفحہ ۱۹۶) یعنی جذام ایک بے بس کر دینے والی بیماری ہے جو پورے جسم میں سودا کے پھیل جانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔یہ اعضاء کے نظام کو بگاڑ دیتی ہے۔اور کبھی تو یہ اُن کے جوڑوں تک کو ختم کر کے (اعضاء) کو کھا جاتی ہے۔ابنِ سیدہ نے کہا: جذام کے معنے کاٹنے کے ہیں یہ بیماری انگلیوں کو کاٹ دیتی ہے اس لیے اسے جذام کہتے ہیں۔لَا عَدْوَى۔۔۔وَفِر مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ: متعدی بیماری نہیں ہوتی۔اور جذامی شخص سے ایسے بھا گو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۔زیر باب حدیث کے دو حصے بظاہر آپس میں متضاد اور مخالف ہیں اول یہ کہ لا عدوی کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ہے اور حدیث کا دوسرا اور آخری حصہ یہ ہے فِرَّ مِنَ الْمَجْلُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الاسد کہ جذامی شخص سے ایسے بھا گو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۔دراصل ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں بلکہ اس حدیث میں قانونِ قدرت کے دو مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔اول لا عدوی میں اس امر کا بیان ہے کہ کوئی بیماری یا کوئی وائرس و بیکٹیر یا از خود ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکتا جب تک قانونِ قدرت اس کا سہارا اور حامل (carrier) نہ ہو۔مثلاً بعض جراثیم کسی کی چھینک سے کسی دوسری جگہ یا چیز پر گرتے ہیں اسے دوسرا شخص چھوتا ہے اور پھر اپناہاتھ ناک یا منہ کو لگاتا ہے اور یوں یہ وائرس اس کے اندر چلا جاتا ہے یا مثلاً مچھر یا مکھی کسی بیماری کے جراثیم اپنے منہ یا پروں پر اٹھا کر لے جاتے ہیں اور کسی کھانے والی چیز پر بیٹھتے ہیں۔وہ جراثیم اس میں گر جاتے ہیں یا چھر کسی کو کاتا ہے اور اپنے ڈنک سے دوسرے جسم میں جراثیم منتقل کرتا ہے۔مذکورہ بالا یہ ذرائع یا ہو یا دیگر لا تعد اد اسباب وائرس یا بیکٹیریا کے کیریئر بن کر بعض بیماریوں کو پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔یہی سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بدوی کے سامنے رکھا کہ پہلے اونٹ کو خارش کی بیماری کیسے لگی؟ جس کا مطلب یہ تھا کہ بیماری از خود نہیں پھیلی بلکہ اسے کیر ئیر پھیلاتے ہیں۔حدیث کے دوسرے ٹکڑے میں جذام کو ان بیماریوں میں سے قرار دیا گیا ہے جن کے جراثیم جن ذرائع سے پھیلتے ہیں ان سے بچنے اور احتیاط کرنے کی آپ نے تاکید فرمائی جیسا کہ فر من الْمَجْلُومِ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔بلکہ آپ نے یہاں تک فرمایا کہ کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھانک کر رکھو تا کہ ایسے جراثیم ان میں نہ پڑیں جذام بھی اُن بیماریوں میں سے ہے جن کے جراثیم بیمار کے ساتھ قربت کے نتیجے میں دوسرے شخص میں منتقل ہوتے ہیں۔اگر قربت یا دیگر ایسے امکانات و اسباب سے بچا جائے تو بیماری نہیں پھیلتی جیسا کہ آج کل کرونا کے متعلق تمام ہدایات دی جارہی ہیں کہ قربت سے بچیں، صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں، سینی ٹائیزر وغیرہ جو جراثیم کش ہیں، ہاتھوں پر لگائیں تاکہ آپ وائرس کے کیرئیر نہ بنیں، نہ اپنے لیے نہ دوسروں کے لیے۔پس در اصل حدیث میں کوئی تضاد نہیں بلکہ قانونِ قدرت کے دو پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔جو جدید سائنس کی تمام تحقیقات سے اظہر من الشمس ہے۔