صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 92
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۹۲ ٧٦ - كتاب الطب فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ حضرت زینب نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرُوا لَهُ سے روایت کی کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا الكُحْل وَأَنَّهُ يُخَافُ عَلَى عَيْنِهَا اور اس کی آنکھیں دکھنے لگیں تو لوگوں نے نبی فَقَالَ لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ صلى اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور آپ سے فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي ایک سرمہ کا نام لیا اور یہ کہ اس کی آنکھیں جاتے أَخْلَاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا فَإِذَا مَرَّ رہے کا ڈر ہے۔آپ نے فرمایا، کبھی وہ بھی زمانہ كَلْبٌ رَمَتْ بَعْرَةً فَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ تھا کہ تم میں سے ایک عورت اپنے گھر میں بدترین پھٹے پرانے کپڑے پہن کر یا فرمایا: اپنے پھٹے پرانے کپڑے پہن کر اپنے بد ترین گھر میں رہا کرتی تھی جب کتا اس کے سامنے سے گزرتا تو وہ ایک مینگنی وَعَشْرًا۔أطرافه: ٥٣٣٦، ٥٣٣٨۔پھینکا کرتی تھی تو کیا چار مہینے دس دن نہیں گزارسکتی۔وَقَالَ عَفَّانُ۔بَاب ۱۹: الْجُدَامُ جذام اور عفان ( بن مسلم ) نے اس کے متعلق بیان کیا۔:٥٧٠٧: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ :۵۷۰۷ سلیم بن حیان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ سعید بن میناء نے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا میں نے أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ حضرت ابوہریرہ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ متعدی بیماری ہوتی طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ وَفِرَّ مِنَ ہے اور نہ ہی بد شگونی اور نہ قبروں پر الو ہوتا ہے الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ۔اور نہ صفر منحوس ہوتا ہے اور جذامی شخص سے ایسے بھا گو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۔أطرافه ،۵۷۱۷، ۵۷۵۷، ۵۷۷۰، ٥۷۷۳، ٥٧٧٥۔